رمضان المبارک میں مسلمانوں کے لیے کیا خوشخبریاں ہیں؟ (مکمل تحریر)

Ubi

رمضان المبارک

اللہ کی طرف سے ملنے والا مبارک مہینہ ہے۔ رمضان ر۔م۔ض سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے شدید گرمی یا تپش۔۔۔کیونکہ مسلمان جب روزہ رکھتا ہے تو بھوک اور پیاس کی شدت کو محسوس کرتا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کے بارے میں اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾

رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا،جوانسانوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی اورحق و باطل کا فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں،توتم میں سے جوکوئی اس مہینے میں حاضرہوتووہ اس کے روزے رکھے،اورجوکوئی بیمار ہو یاکسی سفرپرہوتو دوسرے دنوں سے تعدادپوری کرناہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کاارادہ رکھتاہے اورتم پرتنگی کاارادہ نہیں رکھتااورتاکہ تم تعداد پوری کرسکو اور تم اس پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کروجواُس نے تمہیں ہدایت دی ہے اورتاکہ تم شکر گزار بنو۔ (سورۃ البقرہ : آیت نمبر 185)

قرآن جو ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ جو متقیوں کے لیے ہدایت ہے جس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ۔ قرآن جو دلوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں کی طرف لاتا ہے۔ اسی مبارک مہینہ میں نازل ہوا۔ اللہ نے اس آیت میں تاکید کی ہے کہ جو کوئی بالغ مسلمان اس کو اپنی زندگی میں پائے اس پر واجب ہے کہ وہ ماہ رمضان کے روزے رکھے۔ اور اگر کوئی بیمار ہے یا مسافر ہے یا کوئی بھی مجبوری ہے تو روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے اسے۔ مگر وہ اپنے روزوں کی قضا بعد میں لازما ادا کرے۔۔۔

روزہ رکھنے کا اجر اللہ کے ہاں بہت زیادہ ہے۔ اس کا اندازہ اس آیت سے لگایا جا سکتا ہے:

اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ وَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الۡخٰشِعِیۡنَ وَ الۡخٰشِعٰتِ وَ الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَ الۡمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیۡنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَ الۡحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾

یہ بھی پڑھیں:   غلط عادتوں سے کیسے بچا جائے؟

یقیناًاطاعت کرنے والے مرداوراطاعت کرنے والی عورتیں اورایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں اور فرماں برداری کرنے والے مرداورفرماں برداری کرنے والی عورتیں اورسچے مرداورسچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرداورصبرکرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرداور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرداور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرداورروزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرداوراپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اوراللہ تعالیٰ کو کثرت سے یادکرنے والے مرداور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یادکرنے والی عورتیں،اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سورۃ الاحزاب : آیت نمبر 35

مذکورہ آیت میں جن کا بھی ذکر ہے اللہ نے انکی مغفرت کا وعدہ کیا ہے۔ اور ساتھ میں اجر بھی رکھا ہے۔ الحمدللہ۔

اللہ اپنے بندے کو کسی بھی طور مایوس ہونے نہیں دیتے۔ اللہ نے تمام لوگوں کو یہاں کیٹگرایز کر دیا کہ جو بھی فلاں فلاں کام کرے گا میں اسے اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لوں گا۔

روزے دار کے لیے انعام:

1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے۔ 

 صحیح البخاری (حدیث نمبر 38)  (درجہ: صحیح)

,2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ 

صحیح البخاری (حدیث نمبر 1898) درجہ : صحیح

اللہ نے بے شمار انعامات اور اجر و ثواب کا ذکر قرآن میں کیا ہےا ور احادیث سے بھی پتہ چلتا ہے۔ کوشش کریں کہ رمضان المبارک میں دوسری تمام سرگرمیوں سے اجتناب کریں اور خشوع و خضوع سے اللہ کی عبادت میں خود کو مصروف کریں۔ زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان میں عبادات کیسے کریں؟ (مزید پڑھیے)

قرآن مجید کی تلاوت کریں۔ احادیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کا دورہ کیا کرتے تھے رمضان المبارک میں۔۔ کوشش کریں کہ آپ کے شب و روز بھی اللہ کے ذکر میں گزریں۔ آپ کی زبانیں اللہ کے کلام پاک سے تر رہیں۔ نیکیاں کریں۔

صدقہ کریں۔ تنہائی میں اللہ کو کثرت سے یاد کریں۔ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ جھوٹ سے اجتناب کریں۔ غیبت سے پرہیز کریں۔ سچائی کو عادت بنائیں۔ لڑائی جھگڑوں سے دور رہیں۔ کوشش کریں لغویات سے بچیں اور اپنی ان عادات کو پھر سارا سال اپنائے رکھیں ۔ کوشش کریں کہ صرف رمضان میں ہی نہیں باقی تمام مہینوں میں بھی اللہ کے محبوب بندے بن جائیں ہم۔

کیونکہ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے ( روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، ( یہ الفاظ ) دو مرتبہ ( کہہ دے ) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ( دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔ 

 صحیح البخاری (حدیث نمبر 1894)  درجہ : صحیح

اور

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور فرماتے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کو تلاش کرو۔ 

یہ بھی پڑھیں:   عورت مارچ کی حقیقت کیا ہے؟

صحیح البخاری (حدیث نمبر 2020)  درجہ : صحیح

عورتوں کے لئے خوشخبری :

سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے تو اس سے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔

 مسند احمد: 9640 (درجہ: صحیح)

آخر الذکر :

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کے تمام روزے رکھنے کی توفیق عطا کریں۔ ہماری زندگیوں میں بے شمار ایسے رمضان آئیں اور ہم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیں۔ اللہ ہمیں صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق عطا کریں۔ ہمیں لغویات سے بچائیں۔ ہمیں جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے اس (روزہ ) ڈھال کو استعمال کرنے کے بیش بہا مواقع نصیب کریں۔ ہمیں جنتوں کے حصول کے لیے تگ و دو کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

تحریر : مقدس نعیم

جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں 🥀❤️

2 تبصرے “رمضان المبارک میں مسلمانوں کے لیے کیا خوشخبریاں ہیں؟ (مکمل تحریر)

اپنا تبصرہ بھیجیں