شوگر کےمریض سحری و افطاری میں کن احتیاطی تدابیرکو اپنا ئیں؟ مفید مشورے ضرور پڑھیں

Advertisement

شوگر کے مریضوں کو رمضان المبارک میں سحری و افطاری کے دوران مناسب احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرنی چاہئیں اور دیر سے ہضم ہونے والی غذاوں کا سحری میں استعمال عمل میں لائیں جبکہ عام حالات کے بر عکس ذیابیطس کے مریض سحری میں کم تلا ہوا پراٹھا اور انڈے کی زردی استعمال کر سکتے ہیں .

اسی طرح گھر کا بنا ہوا حلیم اور فائبر سے بھرپور غذاوں کا استعمال بھی شوگر کے مرض میں مبتلا افراد کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جبکہ ذیابیطس میں مبتلا حاملہ خواتین ڈپریشن کا شکار اور گردوں کے امراض میں مبتلا مریض معالجین کے مشورہ پر عمل کر کے اس مقدس ماہ کے فیوض و برکات حاصل کر سکتے ہیں .

ان خیالات کا اظہار لاہور جنرل ہسپتال کے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر طاہر صدیق ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مقصود ، گائناکالوجسٹ ڈاکٹر لیلیٰ شفیق،سابق اے ایم ایس پی آئی این ایس ڈاکٹر شاہد میو اورریٹائرڈائریکٹر ایمرجنسی ایل جی ایچ ڈاکٹر رانا محمدشفیق نے ماہ صیام کے حوالے سے خصوصی طور پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا .

اُن کا کہنا تھا کہ انسولین لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ شوگر لیول60سے نیچے آنے پر روزہ توڑ لینا چاہیے تاکہ انسانی زندگی کو خطرہ لاحق نہ ہو. طبی ماہرین نے کہا کہ غیر صحت بخش کھانے ،تلی ہوئی اشیاء،کاربو ہائیڈریٹس ،چکنائی سے بھرپور پکوان اور ٹھنڈے و میٹھے مشروبات کا بے تحاشا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   سگریٹ نوشی بہت سی ذہنی بیماریوں کی وجہ ہے،ماہرین

ماہرین نے مشورہ دیا کہ رمضان المبارک کے دوران غذا میں تازہ پھل ،سبزیاں اور دہی کا استعمال کریں تاکہ افطار میں صرف دو کھجوریں کھائی جائیں.

Advertisement

ان کا مزید کہنا تھا کہ شوگر کے ساتھ ساتھ ہائیپو گلائیسمیا کے مرض میں بھی ایسی ہی احتیاطی تدابیر ضروری ہیں اور عام طور پر شوگر کی مقدار اُن لوگوں میں زیادہ کم ہوتی ہے جو رات کو اچھی طرح کھانا نہیں کھاتے اور سحری نہیں کرتے.

ماہرین طب کا کہنا تھا کہ اگر سحری اور افطاری میں توازن بر قرار رکھا جائے تو ذیابیطس کے مریض اس مہینے میں روزوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور مذہبی فرائض کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھ سکتے ہیں،

نئی تحقیق کے مطابق انڈے میں 250ملی گرام کولیسٹرول ہوتی ہے ،ذیابیطس کے مریضوں کے لئے سحری کرنا انتہائی ضروری ہے، صرف دوا کھانا اور کھانا چھوڑ دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، روزے کے دوران غیر معمولی مشقت سے خون میں شکر کی سطح کم ہو جاتی ہے

یہ بھی پڑھیں:   انسانی جسم میں پانی کی کمی کی علامات

لہذا ماہ رمضان کی فیو ض وبرکات حاصل کرنے کے لئے ذیابیطس کے مریضوں کو ایسا کھانا کھانا چاہیے جس سے بہت دیر تک پیٹ کے بھرے رہنے کا احساس ہو.

رمضان کے روزے با حفاظت رکھنے کے لئے یہ اہم امر ہے کہ ذیابیطس اور اس کے علاج کو اچھی طرح سمجھا جائے اور روزے کے دوران سامنے آنے والی پیچیدگیوں سے بچا جائے.

Advertisement

انہوں نے مزید کہا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو سحری کی طرح افطاری میں بھی خصوصی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے اور وقفوں وقفوں میں کھانے کی بجائے بسیار خوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان عادات سے خون میں گلوکوز بے قابو ہو جاتا ہے اور شوگر لیول خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   اخروٹ آپ کو خطر ناک بیماریوں سے محفوظ رکھتاہے

انہوں نے پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے ہر مریض کی ذاتی علامات کے مطابق انفرادی منصوبہ بندی اور دیکھ بھال کی ضرورت پر بھی زور دیا .

Read Complete In English

Advertisement

اپنا تبصرہ بھیجیں