جگر کو صحت مندکیسے رکھا جائے؟ (زبردست حل مل گیا)

Advertisement

جگر پر چربی چڑھنے کا مرض (ایم اے ایف ایل ڈی) اس عضو کے افعال کو متاثر کرتا ہے اور دنیا بھر میں لگ بھگ 25 فیصد افراد زندگی میں اس کا شکار ہوتے ہیں . اور یہ اضافی چربی ہی جگر کے جان لیوا امراض کا باعث بننے والی سب سے بڑی وجہ ہے .

تاہم اس سے بچنا بہت آسان ہے اور بس آپ کو ورزش کو طرز زندگی کا حصہ بناناہوگا. تحریر جاری ہے‎ یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی. تسوکوبا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ورزش سے صرف جسمانی وزن ہی کم نہیں ہوتا بلکہ اس کا فائدہ جگر کو بھی ہوتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   سر اور گردن کے کینسر کی چند عمومی علامات

این اے ایف ایل ڈی کا خطرہ بڑھانے والے عناصر میں بسیار خوری اور سست طرز زندگی قابل ذکر ہیں. جسمانی وزن کم کرنا جگر کے اس عارضے کی روک تھام کے لیے اہم ہے مگر طے شدہ جسمانی وزن کا حصول مشکل ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ مشکل ہوجاتا ہے.

ورزش جسمانی وزن میں کمی کے ساتھ صحت کو دیگر فوائد بھی فراہم کرتی ہے، تاہم اس حوالے سے میکنزم مکمل طور پر واضح نہیں. تحقیق کے دوران موٹاپے کے شکار این اے ایف ایل ڈی کے ایسے مریضوں کے ڈیٹا کو دیکھا گیا جو 3 ماہ تک ورزش کے پروگرام کا حصہ بنے اور اس ڈیٹا کا موازنہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے غذائی حکمت عملی اپنانے والے افراد سے کیا گیا.

Advertisement

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ورزش سے مسلز کا حجم بہتر ہوا جبکہ جسم اور چربی کا حجم بھی گھٹ گیا. الٹراساؤنڈ سے انکشاف ہوا کہ ورزش کرنے والے افراد کے جگر کی چربی میں 1ضافی 9.5 فیصد کمی آئی. اسی طرح ورزش کرنے والے گروپ میں ورم کش اور انسداد تکسیدی تناؤ کا عمل متحرک ہوا.

محققین نے کہا کہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ورزش سے جگر پر چربی چڑھنے اور ریشے دار بافتوں کے اجتماع کی روک تھام ہوتی ہے جبکہ مسلز کا حجم بہتر ہوتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   برگر کھانے والوں کے لیے بڑی وارننگ جاری (لازمی پڑھیں)

انہوں نے مزید کہا کہ معتدل سے سخت ورزشوں کو کرنا جگر کے امراض کا خطرہ کم کرنے کے ساتھ اس کا سامنا کرنے والے مریضوں کو سنگین خطرات سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے، چاہے جسمانی وزن کم ہو یا نہ ہو.

Read In English

Advertisement

اپنا تبصرہ بھیجیں