سورج کی روشنی اور کووڈ 19 کے درمیان ممکنہ تعلق دریافت

یسے خطے جہاں سورج کی روشنی زیادہ ہوتی ہے وہاں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے اموات کی شرح کم ہوتی ہے۔

یہ بات اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سورج کی شعاعوں بالخصوص الٹرا وائلٹ ریز اس وبائی بیماری سے موت کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن مقامات پر الٹرا وائلٹ شعاعوں کا اثر زیادہ ہوتا ہے وہاں کووڈ 19 سے موت کا خطرہ ان علاقوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے جہاں ان شعاعوں کا اثر کم ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہی تجربہ برطانیہ اور اٹلی میں بھی کیا گیا اور وہاں بھی یہی نتائج سامنے آئے۔

محققین نے وائرس سے موت کا خطرہ بڑھانے والے عناصر جیسے عمر، نسل، سماجی حیثیت، فضائی آلودگی، درجہ حرارت اور دیگر کو بھی مدنظر رکھا۔

سورج کی روشنی اور کووڈ 19 کی اموات کی شرح کے درمیان اس تعلق کی مکمل وضاحت تو تحقیق میں سامنے نہیں آسکی ہے۔

مگر ایک وضاحت ضرور پیش کی گئی جس پر اب محققین کی جانب سے مزید کام بھی کیا جارہا ہے، جس کے مطابق سورج کی روشنی سے جلد میں نائٹرک آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے۔

Related Post

اس کے نتیجے میں کورونا وائرس کی نقول بنانے کی صلاحیت ممکنہ طور گھٹ جاتی ہے۔

ان محققین کی ایک سابقہ تحقیق میں ثابت کیا گیا تھا کہ سورج کی روشنی میں زیادہ رہنا دل کی شریانوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جس سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

امراض قلب بھی کووڈ 19 سے موت کا خطرہ بڑھانے والے عناصر میں شامل ہے اور اس سے موجودہ تحقیق کے نتائج کی کچھ وضاحت بھی ہوتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ یہ مشاہداتی تحقیق ہے جو اس میں وجہ اور اثرات کا تعین کرنا ممکن نہیں تھا، مگر اس سے ممکنہ علاج کی آزمائش میں مدد مل سکتی ہے۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رچرڈ والر نے بتایا کہ ابھی بھی ہم کووڈ 19 کے بارے میں بہت کچھ نہیں جانتے، سورج کی روشنی کے اثرات کے ابتدائی نتائج ممکنہ طور پر موت کا خطرہ کم کرنے کا ایک ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش جرنل آف ڈرماٹولوجی میں شائع ہوئے۔

Recent Posts