اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا سب سے زیادہ فرق سندھ، سب سے کم پنجاب میں

اسلام آباد: ضروری اشیائے خورونوش کے ضلعی انتظامیہ کے مقررہ نرخوں اور اصل قیمت کے لحاظ سے بلوچستان اور سندھ کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تیسرے نمبر پر ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات اسلام آباد اور صوبوں کو ہفتہ وار درجے دیتا ہے، اس عمل کا مقصد قیمتوں کو قابو کرنے میں گورننس کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخوں اور مارکیٹ کی قیمت میں 20.25 فیصد کا فرق پایا گیا جس کے بعد خیبرپختونخوا میں یہ فرق 16.41 فیصد جبکہ پنجاب میں 15.28 فیصد رہا۔

دوسری جانب سندھ میں قیمتوں کا اوسط فرق 38.69 فیصدرہا جس کے بعد بلوچستان میں یہ فرق 33.28 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

یہ درجہ بندی چیف سیکریٹریز کی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں جو صوبوں کے ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔

افراط زر کے حوالے سے فیصلہ سازی کے حمایتی نظام (ڈی ایس ایس آئی) کی مدد سے قیمتوں میں پائے جانے والے فرق کا پتہ چلایا گیا، جو مختلف ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری قیمتوں کو نافذ کرنے میں ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

پی بی ایس نے قومی قیمت مانیٹری کمیٹی (این پی ایم سی)، وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے ڈی ایس ایس آئی تیار کیا ہے۔

سندھ میں کراچی سب سے پہلے نمبر پر رہا جہاں ضلعی انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخ اور صارفین کو دستیاب قیمتوں کا فرق 1.55 فیصد بڑھ کر 86.37 فیصد ہوگیا جو گزشتہ ہفتے 84.82 فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   سونے کی قیمت میں بڑی کمی

اس کے بعد بلوچستان کے شہر خضدار میں 1.06 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا جہاں نرخوں کو فرق 33.39 فہصد سے بڑھ کر 34.45 فیصد ہوگیا جس کے بعد حیدرآباد میں 1.52 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی اور فرق 27.2 فیصد سے کم ہو کر 25.7 فیصد رہا۔

پنجاب میں قیمتوں کا فرق کہیں کم ہے جس میں بہاولپور نے سب سے نچلے درجے پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی اور گزشتہ ہفتے کے مقابلے 0.93 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 10.52 فیصد کا کم ترین فرق ریکارڈ کیا گیا۔

خیبرپختونخوا میں پشاور میں 0.39 فیصد کی کمی کے ساتھ قیمتوں کا فرق 17.6 فیصد جبکہ بنوں میں 4.2 فیصد کی کمی کے ساتھ 15.21 فیصد رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

گزشتہ ہفتے کی درجہ بندی تقریباً اسی رجحان کو ظاہر کرتی ہے جس میں کراچی بلند ترین سطح پر ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کی ضلعی انتظامیہ اپنے نرخ نافذ نہیں کرواسکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں