میں انمول کتاب میں کیا ہے؟ (مکمل پڑھیں)

بک ریویو

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔

امید کرتی ہوں آپ سب ایمان اور صحت کی بہترین حالتوں میں ہوں گے ان شاء اللہ۔

___________________________________________

کتاب کا نام: میں انمول

مصنفہ کا نام : نمرہ احمد

صفحات : 515

صنف : سیلف ہیلپ کتاب

میری درجہ بندی : ⭐⭐⭐⭐⭐

————-

🌺 مصنفہ کے بارے میں:

نمرہ احمد پاکستان کی مشہور اور منجھی ہوئی رائٹر ہیں جو اپنی کتب میں سبق آموز کہانیاں لکھ کر عوام الناس کا دل جیتے ہوئے ہیں۔ ان کی کتب میں یا تو آپکو بہت اچھا سبق ملتا ہے۔ یا اس میں قرآن کی کوئی نہ کوئی آیت ایسے بیان کی جاتی ہے کہ پڑھنے والا ایک نئے زاویے کو سمجھنے لگتا ہے۔ رومانوی قسم کے ناول بہت کم ہیں۔ ہلکا پھلکا جیسا زندگی میں ہے ۔ اور حدود میں رہ کر انہوں نے تمام چیزوں کو بے حد خوبصورت طریقے سے الفاظ میں ڈھالا۔ ان کی دوسری کتب میں مصحف ، نمل، حالم ، بیلی راجپوتاں کی ملکہ ، جنت کے پتے ہیں۔ لیکن آج میں ان کی حالیہ شائع شدہ کتاب “میں انمول” پر تبصرہ کروں گی۔

 🌺 کتاب کے بارے میں:

                           “میں انمول” سیلف ہیلپ کتاب ہے۔ جس میں نمرہ احمد نے اپنی زندگی میں ہونے والے واقعات سے سیکھا گیا سبق اور حاصل شدہ ویلیوز پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کیسے عزت نفس ہر جزبے سے اوپر ہے مگر غرور شامل نہیں ہونا چاہیے۔ انسان کو اپنی ان سیکیورٹیز کا کیسے پتہ چل سکتا ہے اور ان کی کیسے اصلاح کی جا سکتی ہے۔ اس میں کردار بھی نمرہ احمد کی زندگی کے ہیں اور ہیرو خود وہ ہیں۔ ڈپریشن اور اداسی سے کیسے نبٹیں؟ محبت کرنے والا کون ہوتا ہے؟خوشی کیا ہے؟ رشتوں کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ غم سے کیسے نکلیں۔ سیلف ریسپیکٹ کیا ہے؟ ہماری زندگی میں ہم ویلیو کیسے ایڈ کریں؟؟ اور بہت سے موضوعات اس میں آپ کو ملیں گے جو آپ کو آپ سے ملائیں گے۔

🌺 میری رائے: 

ابھی میں نے یہ کتاب خریدی نہیں تھی جب میں نے سوشل میڈیا پر اس کتاب کے خلاف ریویوز دیکھے۔ اختلاف رائے سب کا حق ہے۔ ہو سکتا ہے جو چیز آپ کو فائدہ نہ دے کسی کو اور کو دے دے۔ میں نے کتاب منگوائی اور اسے پڑھنا شروع کیا۔۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمیں کب دوسرے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟

جیسے جیسے کتاب پڑھتی گئی میں نے یہ جانا کہ جو سفر نمرہ آپی نے طے کیا ہے وہی میں نے بھی طے کیا ہے تب ہی آج لوگ میری تحریریں پڑھ کر موٹیویشن حاصل کرتے ہیں۔ اس میں بہت سی باتیں مجھے معلوم تھیں اور بہت سی باتیں میرے علم میں آئیں۔

جیسے

حاسدین سے کیسے بچیں۔ ؟

اگرحاسد قریبی ہے تو اس کے اور آپ کے رشتے میں باؤنڈری لائن کیسے کھینچی جائے کہ رشتہ نہ ٹوٹے۔ ہمیں خونی رشتوں کو توڑنا نہیں ہے اپنی حدود قائم کرنی ہیں ۔ صرف لوگوں کا ہی خیال نہیں رکھنا اپنا بھی رکھنا ہے۔ایک لکھاری ہونے کے ناطے میری کیا ویلیوز ہونی چاہیے۔ مجھے عاجز ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے کاؤنسلنگ کیوں چھوڑی؟؟

میں نے اس کتاب کے پسندیدہ اقتباسات پر بے شمار الفاظ جوڑ کر اپنے تجربات شئیر کیے ہیں۔ موضوع ختم نہیں ہوتے مگر کتاب ختم ہو جاتی ہے۔ اور آخری باب پر پہنچ کر میں اداس ہو گئی۔ مگر نہیں یہ تمام باتیں مجھے کام دیں گی۔ میں یہاں تفصیلا نہیں لکھ سکتی اس کے لیے آپ کو کتاب خرید کر پڑھنا پڑے گی۔۔

مگر یاد رکھیں ہر کتاب میں آپ کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا جو آپ سیکھتے ہیں۔ میں ان تمام بھائی بہنوں کو یہ یہ کتاب ریفر کروں گی جو ہر وقت اداسی کا شکار رہتے ہیں جنہیں بے شمار خوف لا حق ہیں۔ یہ کتاب آپ کو آپ سے ضرور ملوائے گی۔ مکمل نہ سہی مگر کچھ نہ کچھ آپ ضرور جان جائیں گے یہ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں۔

نوٹ : اس کتاب میں میرے پسندیدہ اقتباسات کی تعداد بہت زیادہ ہے جس کو میں اس تحریر میں شامل نہیں کر سکتی۔ تحریر بہت لمبی ہو جائے گی۔ اقتباسات کے لیے ایک الگ پوسٹ لکھوں گی ان شاء اللہ۔

تبصرہ نگار:مقدس نعیم ©

میں انمول کتاب میں کیا ہے؟ (مکمل پڑھیں)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں