ہمیں کب دوسرے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟

 زندگی کبھی کبھار کتنے عجیب سے راستے پر لے آتی ہے

ہاں کچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔۔۔

ہم بہت کچھ کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔۔

مگر کچھ کر بھی نہیں پاتے۔

دل چاہتا ہے کہ پھوٹ پھوٹ کر روئیں

اور رویا بھی نہیں جاتا ۔۔۔

خاموشی۔۔۔

بلکل خاموشی ۔۔۔ چاروں طرف ۔۔۔

اور کاٹنے کو دوڑتی ہے یہ خاموشی۔۔۔

کسی سے بات کرنے کو جی چاہتا ہے

نہ بولنے کو

بس کوئی پاس بیٹھ کر اپنی موجودگی

کا احساس دلائے

لیکن خاموشی بر قرار رہے۔۔۔

مقدس

اپنا تبصرہ بھیجیں