خامیوں پر قابو کیسے پایا جائے؟

ان سیکیورٹی:

میں ایک عرصہ تک ان سیکیورٹیز کے ساتھ لڑتی رہی ہوں۔۔ جیسے بچپن میں دوستوں نے ایک نام رکھا “۔۔۔” کیونکہ میں اچھی خاصی صحتمند بچی تھی۔

مجھے بہت برا لگا تھا میں اکثر پرنسپل کو شکایت کرنے جاتی مگر ہم جماعت کچھ دنوں تک باز رہے اور بعد میں پھر سے وہی سب۔۔۔

مگر آہستہ آہستہ مجھے عادت ہو گئی ۔۔۔ یہ نام یونیورسٹی تک ساتھ چلا مگر میں نے اسے قبول کر لیا اپنی خامی سمجھ کر نہیں۔۔۔

اپنی خوبی سمجھ کر ۔۔ بہت سے لوگ کھاتے ہیں انہیں لگتا نہیں۔ اور الحمدللہ میں ایک صحت مند بچی تھی۔۔ مگر اتنی نہیں جتنا مجھے کہہ کہہ کر بنا دیا گیا تھا۔۔۔

بڑی ہوئی تو اچھے قد کی وجہ سے “آئفل ٹاور” جیسے نام بھی پڑے ۔۔ مگر کہا نا تب تک میں نے سیکھ لیا تھا کہ یہ سب میری خامیاں نہیں خوبیاں ہیں۔مجھے انہی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

مگر کچھ ان سیکیورٹیز میری ایسی تھی جن کو قبول میں نے کچھ عرصہ پہلے کیا

جیسے میں وہ لڑکی ہوں جو چشمہ پہنتی ہے۔ مجھے نظر کا چشمہ لگا ہے

۔ بظاہر مجھے اس سے کوئی کوفت نہیں ہوتی مگر خاندان میں شادیوں پر سب نے کہنا لینز لگا لو۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا کا دیسی علاج کے چکر میں وزیر صحت زہریلا پانی پی گئے

گلاسز اچھے نہیں لگتے۔ ایسے میک اپ سوٹ نہیں کرتا۔ ایسے لُک اچھی نہیں آتی وغیرہ وغیرہ۔۔

یقین کریں میں گھنٹوں ضائع کیے ٹیوٹوریلز دیکھنے میں یوٹیوب پر ۔۔

کہ کس طرح لینز ڈالے جائیں اور گود میں شیشہ رکھ کر لینز ڈالنے کی کوشش کی مگر ہر بار ناکام رہی

میں نے لینز ضائع کر دیے

دو ہزار ضائع ۔

میں عینک کے ساتھ کمفرٹ ایبل ہوں بھئی

آپ کو لینز پہننے ہیں آپ پہنیں۔ آپ کو فیشن کرنا ہے آپ کو بال ڈائی کرانے ہیں آپ کو بھنویں بنوانی ہیں آپ سب کریں ۔ لیکن اگر میں یہ سب نہیں کرتی تو مجھے میری خامیاں بنا کر مت بتائیں۔

میں اپنے ساتھ کمفرٹ ایبل ہوں۔

مجھے اللہ نے سانولی رنگت دی ہے مجھے کوئی ان سیکیورٹی نہیں۔

میں جیسی ہوں بہترین ہوں یہ میں نے نہیں کہا یہ میرے اللہ کی بات ہے۔ جائیے دیکھیے قرآن ۔۔۔

میں نے عبایا پہننا شروع کیا۔ حجاب شروع کیا اور فنکشنز پر بھی جب حجاب کرتی تو اکثر خواتین کہتیں۔

“تم تو سر سے چادر ہی نہیں اتارتی ۔ اب شادی بیاہ پر تو اتار دیا کرو۔ ایسے تصاویر بھی نہیں آتی۔ ایک دن کی ہی تو بات ہے”

وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا عزت نفس ہر رشتے سے زیادہ اہم ہے ؟ جانیے اس تحریر ص

پہلے میں پریشان ہوتی تھی کہ میں

کیسے ان سب کا سامنا کروں

۔ ظاہر ہے آپ سے بڑی خاتون آپکو یہ سب کہے اور وہ رشتے دار بھی ہو تو

 آپ سوائے پھیکی مسکراہٹ کہ کیا دے سکتے ہیں؟؟

مگر ایک دو سال پہلے میں نے ان سب کو اپنی طاقت بنا لیا۔ میں ڈٹی رہی۔ اور اب سب کو پتہ ہے کہ یہ ایسے ہی رہے گی اس کو کہنے کا فائدہ نہیں سو

اب کوئی مجھے میری کسی بات کو لے کر مجھے اس بات کا احساس نہیں دلاتا کہ یہ آپکی خامی ہے۔ آپ کو خود کو خود جیسے ہیں ویسی قبول کر لیں تو کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ۔۔

ایک اور چیز کہنا چاہوں گی کہ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ بھنویں بنوائیں یا اگر وہ سکارف نہیں لیتی بیاہوں ہوں پر تو نہ لیں۔۔۔ نہیں۔

جو حکم اللہ نے دیا اس سے انحراف تو کر ہی نہیں سکتے نہ ہم

۔۔ مگر وہ چیزیں جس پر ہمارا اختیار نہیں جیسے میں لینز نہیں پہن سکتی مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں عینک کے ساتھ پر سکون رہتی تو میں اسے پہنوں گی ۔

یہ بھی پڑھیں:   کن حالات میں کیا اقدام اٹھائیں؟

کسی کا فرض نہیں بنتا کہ وہ مجھے لینز کے لیے اکسائے یا یہ کہے کہ آپ عینک میں اچھی نہیں لگتی۔ اگر میں آپ کو اچھی نہیں لگتی تو اس کا میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے

۔ دنیا میں ہم سب کو اچھے نہیں لگ سکتے۔

ہم خود کو اور اللہ کو اچھے لگنے چائیے۔

مقدس نعیم 🖋️📚

جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں 🥀❤️🌺

اپنا تبصرہ بھیجیں