ناول کی باتیں

🌺 زندگی تنہا گزرے تو بے شک کڑوی اور کٹھن ہے۔ یار موافق مل جاوے تو چاہ کا لطف اور جینے کا مزہ بھی ہے۔

🌺 راہ تو اسے ہی ملے جسے راہ مطلوب ہو ۔ میں نہ سمجھوں تو بھلا کوئی کیا سمجھائے مجھے۔

🌺 عورت ذات کو اللہ نے شرم،حیا ،مامتا ، رحم دلی اور قربانی کا پتلا بنایا ہے ۔

🌺 عورت کے لئے مرد ضروری ہے۔ مرد کے لئے عورت ناموس ہے اور عورت کے لئے مرد وارث۔

🌺 She walks in beauty, like the night

Of cloudless climes and starry skies;

And all that is best of dark and bright,

Meets in her aspect and her eyes.

🌺 دامن صبر کو مسل ڈالا

جادۂ ضبط بھی کچل ڈالا

دل کا احوال ہی بدل ڈالا

ذوق تنہائی میں خلل ڈالا

آ کے مجھ پاس دو گھڑی تو نیں

میر حسن۔۔۔

🌺 تجھ سوا کوئی جلوہ گر ہی نہیں

پر ہمیں آہ کچھ خبر ہی نہیں

میرے احوال پر نظر ہی نہیں

اس طرف کو کبھو گزر ہی نہیں

دل نہ دیویں جگر نہ چاک کریں

یہ تو اپنا دل و جگر ہی نہیں

درد دل چھوڑ جائیے سو کہاں

اپنا باہر تو یاں گزر ہی نہیں

کر دیا کچھ سے کچھ ترے غم نے

اب جو دیکھا تو وہ اثر ہی نہیں

میر اثر ۔۔۔

🌺 کوئی تا قیامت نہیں جیتا اور مرنے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔

🌺 یہ اسکا بھول پن ہی تو تھا کہ اس تیرہ صدی میں وہ چاہ چیت ڈھونڈتی تھی،

حالانکہ بڑی چیز تو عزت اور عافیت تھی۔

چاہت کا کیا ہے،

موسم بہار کی تتلی ہے کہ بے حد خوش رنگ ہے لیکن چند روزہ۔

🌺 “میں تو اسے سخاوت پر ہی محمول کروں ہوں سرکار کہ آپ مجھ بے حسن

میں حسن دیکھیں ہیں اور مجھ بے ہنر کو ہنر مند گردانیں ہیں۔ اللہ آپ کو تا قیامت سلامت رکھے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے کاؤنسلنگ کیوں چھوڑی؟؟

یہ مزاج کی سخاوت ہی ہے کہ جہاں اچھائی نہیں ہے وہاں اچھائی نظر آوے اور جہاں عیب ہووے وہاں حسن دکھائی دے۔”

“اگلے لوگ تو اسے سخاوت نہیں محبت کہتے تھے۔” نواب پھر مسکرائے۔

🌺 اذا حاق القضاء ضاق الفضاء

جب قضا قریب آجاتی ہے تو فراخ جگہ بھی تنگ ہو جاتی ہے۔۔

🌺 میاں مصحفی کی غزل کے دو تین اشعار جو نواب شمس الدین احمد بار بار اپنے فرزند نواب مرزا سے سنتے تھے۔۔

یوں رو رو اس گلی میں دن رات کاٹتے ہیں

رستے میں جو مسافر برسات کاٹتے ہیں۔

ہے زیر تیغ اپنی جوں شمع زندگانی

سو بار سر کیے ہے تب رات کاٹتے ہیں

🌺 سب اپنی زندگی جیتے ہیں اور اپنی موت مرتے ہیں۔ کوئی کسی اور کے لیے نہیں مرتا ۔

اللہ تعالیٰ کا بھی یہی فرمان ہے

“نہیں اٹھائے گا کوئی اٹھانے والا بوجھ کسی دوسرے کا”

🌺 اللہ سب کا حامی و ناصر ہے۔ اللہ کی پناہ سے بڑھ کر کوئی پناہ نہیں۔

🌺 “لیکن زندگی اونچ نیچ کی جگہ ہے،

عورت کے لیے مرد بڑا سہارا اور بڑی طاقت ہوتا ہے۔ عمر کا سورج ڈھلنے کے ساتھ زندگی کی دھوپ میں شدت آنے لگتی ہے، اس وقت عورت کے سر پر کوئی چھاؤں نہ ہو تو سب جھلس جائے، کچھ باقی نہ رہے۔”

🌺 “کاتب تقدیر کے ایک ہاتھ میں قلم ہوتا ہے اور ایک ہاتھ میں تلوار۔ قلم جو لکھتا ہے تلوار اسے کاٹ بھی دیتی ہے۔ ہم میں سے بعض کی تقدیریں بار بار لکھی اور کاٹی جاتی ہیں۔ ہماری بازیاں بار بار کھیلی اور جیتی جاتی ہیں۔۔۔۔۔”

🌺 عورت کے لیے مرد اس کے بدن کی چادر ہے،

اس کے سر کے اوپر کی چھت ہے، اس کی جوانی کی پناہ، اس کے بڑھاپے کا سہارا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کئی چاند تھے سرِ آسماں میں غالب کی کہانی

🌺 مرد ذات سمجھتی ہے کہ ساری دنیا کے اسرار اور تمام دلوں کے نہاں گوشے اس پر منکشف ہیں، یا اگر نہیں بھی ہیں تو نہ سہی

، لیکن وہ سب کے لیے فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ مرد خیال کرتا ہے کہ عورتیں اسی نہج اور مزاج کی ہوتی ہیں جیسا اس نے اپنے دل میں اپنی بہتر فہم و فراست کے بل پر گمان کر رکھا ہے۔

اور اگر عورتیں اس نہج اور مزاج کی نہیں بھی ہیں تو یہ سہو مرد ذات کا نہیں، عورت ذات کا ہے، کہ وہ ویسی کیوں نہ ہوئی جیسی کہ مرد چاہتا یا سمجھتا ہے۔

🌺 ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس

ایک وہ ہیں کہ جنھیں چاہ کے ارماں ہوں گے

🌺۔سمجھا ہی نہیں کوئی کہ دنیا کیا ہے

کہتا ہی نہیں کوئی کہ دنیا کیا ہے

افلاک پہیلیاں بجھاتے ہی رہے

بوجھا ہی نہیں کوئی کہ دنیا کیا ہے

🌺 کامیابی ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن انسان کوشش تو کر سکتا ہے۔

🌺 الجھنا آسان ہے اور سلجھنا مشکل۔

جب تک جی ہے تب تک جنجال بھی ہے

🌺 مضی ما مضی پر عمل کرنا اور گزشتہ زمانوں کو حافظے میں کہیں دفن کر دینا ہی مناسب ہے

🌺 جنھیں کچھ ملتا ہے وہ مزید کے خواہاں رہتے ہیں

اور جنھیں نہیں ملتا وہ پانے کے متمنی رہتے ہیں

اور کچھ ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ ترک تمنا ہی جنھیں سب کچھ مل جانے کے مترادف ٹھہرے۔

🌺 چین دیتے نہیں وہ داغ کسی طرح مجھے

میں جو مرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ جینا ہو گا

🌺 کہا ظالم نے میرا حال سن کر

وہ اس جینے سے مر جائے تو اچھا

🌺 نہیں اسکا نشاں جہاں جاؤں

میں یہ دل لے کہ اب کہاں جاؤں

🌺 موت اور فراق میں کوئی فرق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت سب کو ہوتی ہے

وہ خالق ہے، باری ہے، منعم ہے ، بحر سخا ہے

آپ نے سنا نہیں کیا ؟

سمندر کو چوری سے خوف نہیں۔

🌺 کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب نے

انکی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں

🌺 اے داغ کوئی مجھ سا نہ ہو گا گنہ گار

ہے معصیت سے میری جہنم عذاب میں

🌺 سچ ہے عورت خود کو کتنی ہی بھاری بھرکم کیوں نہ سمجھے مرد کے بغیر اسکا پلہ ہلکا ہی رہتا ہے۔

🌺 دکھ سکھ تو دھوپ اور چھاؤں کی طرح ہیں۔ ہر چیز تغیر پذیر ہے۔

🌺 خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھوٹی قسم سے آپکا ایمان تو گیا

افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں

لیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا

دل لے لے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں

الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے

اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

🌺 کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو

ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو

___________________ انتخاب : مقدس نعیم

اپنا تبصرہ بھیجیں