کئی چاند تھے سرِ آسماں میں غالب کی کہانی

 کتاب کا نام : کئی چاند تھے سرِ آسماں

مصنف : شمس الرحمان فاروقی

صنف : ناول

صفحات : 776

میری درجہ بندی : ⭐⭐⭐⭐

شمس الرحمان فاروقی کا یہ ناول ادبی لحاظ سے ایک شاہکار ہے۔ اس میں کچھ کردار وہ ہیں جن کا شعر گوئی سے تعلق رہا اور کچھ وہ جو اس وقت کے بادشاہ تھے۔

اس کتاب میں مرزا غالب سے لے کر داغ تک کی داستان ہے۔ وزیر بیگم کے کردار کا پلاٹ بہترین ہے۔ مرزا داغ کس طرح سے مشق سخن کرتے اور کیسے وہ اس طرف آئے۔ پوری کہانی جاندار ہے۔

یہ ناول لمبا ہے اور شروع میں آپ کو بور کرے گا مگر جیسے جیسے آپ پڑھتے جائیں گا آپکا تجسس اور دلچسپی بڑھتی جائے گی۔

اور آپ اسے مکمل کیے بنا رہ نہیں پائیں گے۔ اس وقت کے طور طریقے اور بادشاہوں کے رسوم و رواج پڑھ کر کچھ وقت کے لیے محسوس ہوتا ہے کہ وہ تمام مناظر

ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جیتے جاگتے کردار ہیں۔ ادب اور رومان دونوں متوازن ہیں جو ناول کی خاصیت ہے۔ یہ ایک بلکل مختلف ناول ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   Do you read books?

میں اپنے چند پسندیدہ اقتباسات یہاں شئیر کر رہی ہوں اور ان شاء اللہ کسی پوسٹ میں تمام یکجا کر کہ پیش کروں گی۔ اور اس میں موجود فارسی میں نثر اور شاعری بھی مجھے بحث حد پسند آئی۔ مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ اردو کو پہلے ریختہ کہتے تھے۔😐

1) زندگی تنہا گزرے تو بے شک کڑوی اور کٹھن ہے۔ یار موافق مل جاوے تو چاہ کا لطف اور جینے کا مزہ بھی ہے۔

2) تجھ سوا کوئی جلوہ گر ہی نہیں

پر ہمیں آہ کچھ خبر ہی نہیں

میرے احوال پر نظر ہی نہیں

اس طرف کو کبھو گزر ہی نہیں

دل نہ دیویں جگر نہ چاک کریں

یہ تو اپنا دل و جگر ہی نہیں

درد دل چھوڑ جائیے سو کہاں

اپنا باہر تو یاں گزر ہی نہیں

کر دیا کچھ سے کچھ ترے غم نے

اب جو دیکھا تو وہ اثر ہی نہیں

میر اثر ۔۔۔

3) یہ مزاج کی سخاوت ہی ہے کہ جہاں اچھائی نہیں ہے وہاں اچھائی نظر آوے اور جہاں عیب ہووے وہاں حسن دکھائی دے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا کا دیسی علاج کے چکر میں وزیر صحت زہریلا پانی پی گئے

4) سب اپنی زندگی جیتے ہیں اور اپنی موت مرتے ہیں۔ کوئی کسی اور کے لیے نہیں مرتا ۔

اللہ تعالیٰ کا بھی یہی فرمان ہے

“نہیں اٹھائے گا کوئی اٹھانے والا بوجھ کسی دوسرے کا”

5)عورت کے لیے مرد اس کے بدن کی چادر ہے، اس کے سر کے اوپر کی چھت ہے، اس کی جوانی کی پناہ، اس کے بڑھاپے کا سہارا ہے۔

6) خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھوٹی قسم سے آپکا ایمان تو گیا

افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں

لیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا

دل لے لے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں

الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے

اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

7) موت اور فراق میں کوئی فرق نہیں۔

وہ خالق ہے، باری ہے، منعم ہے ، بحر سخا ہے

آپ نے سنا نہیں کیا ؟

سمندر کو چوری سے خوف نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ناول کی باتیں

اور بھی ہیں جو مجھے پسند ہیں اشعار مگر میں چاہوں گی کہ آپ خود اسے پڑھیں اور ضرور پڑھیں خاص کر وہ لوگ جنہیں شعر و شاعری سے لگاؤ ہے۔

مقدس نعیم

جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں ❤️

اپنا تبصرہ بھیجیں