کرونا کا دیسی علاج کے چکر میں وزیر صحت زہریلا پانی پی گئے

شکک: کرغزستان کے وزیر صحت پریس کانفرنس کے دوران کرونا علاج کے چکر میں جڑی بوٹی کا زہریلا پانی پی گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کے حکام نے جمعہ کے روز کرونا وائرس کا زہریلی جڑی بوٹی سے علاج کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس صدرِ کرغزستان نے جیل میں اس بوٹی کے ذریعے ہزاروں مریضوں کا علاج کیا، جس کے بعد وہ مکمل صحت یاب ہوئے۔

وزیرصحت المیکادر بیشنالیئف نے صحافیوں کے سامنے دعویٰ کرنے کے بعد کہا کہ ’اس جڑی بوٹی سے کرونا کا علاج بھی ممکن ہے‘۔ یہ الفاظ ادا کرنے کے بعد انہوں نے قریب میں رکھی بوتل اٹھائی اور زہریلی جڑی بوٹی کا پانی غٹاغٹ پی گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناول کی باتیں

رپورٹ کے مطابق یہ جڑی بوٹی ایکونائٹ نامی زہریلے پودے میں پیدا ہوتی ہے۔ وزیر صحت نے صحافیوں کو اس جڑی بوٹی سے علاج کی خصوصیات بھی بیان کیں اور واضح کیا کہ ’یہ صحت کے لیے کوئی نقصان دہ نہیں ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آپ کو اسے گرم گرم پینا ہے اور اس کے دو یا تین روز بعد وہ مریض بھی بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کا پی سی آر ٹیسٹ پازیٹیو ہوتا ہے۔‘

واضح رہے کہ کرغزستان میں ایک زہریلی جڑی بوٹی سے کرونا وائرس کے علاج کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ملک کو صحت کے حوالے سے سنجیدہ انتباہ کے باوجود انفیکشن کی نئی لہر کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رحم دل کون ہے

ایکونائٹ کی جڑ کو زہریلا ہونے کے باوجود روایتی طور پر حکمت اور ہومیو پیتھی میں ادویات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین نے اس جڑی بوٹی کے استعمال کو انسانی صحت کے لیے مضر اور خطرناک قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں