کن حالات میں کیا اقدام اٹھائیں؟

“نمرہ احمد” کی سیلف ہیلپ کتاب “میں انمول” سے میرے پسندیدہ اقتباسات:

🌺 کوئی لمحہ آپ کی زندگی میں ایسا آتا ہے جہاں سے زندگی بدلنا شروع ہوتی ہے۔ آپ خواب سے جاگتے ہیں۔ آپ کے گرد بنی شیشے کی نقلی دنیا چھناکے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر کئی برس گزر جائیں تب بھی آپ کو وہ شخص ، مقام ، وقت ہر شے یاد رہتی ہے۔
جس نے آپ کو جھنجھوڑ کہ جگایا ہوتا ہے۔

🌺 ایک چیز ہے اداسی جو ہر ایک کو لاحق ہوتی ہے۔ ایک ہوتا ہے ڈپریشن جو کہ ایک بیماری ہے اور یہ سب کو نہیں ہوتی۔ ایک ان دونوں کے درمیان کا مقام ہوتا ہے۔ عام اداسی سے زیادہ شدید۔۔۔ مگر ڈیپریشن سے کم۔۔۔ اگر اسکا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ بیماری میں بدل جاتا ہے۔

🌺 اللہ تعالی محبت کرنے والا ہے۔

اور جو محبت کرنے والے ہوتے ہیں وہ آپ کی بہت سی خامیاں نظرانداز کردیتے ہیں ۔ وہ آپ کو معاف کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ۔ بعض دفعہ آپ کی معذرت کے بغیر آپ کو خود سے معاف کر دیتے ہیں ۔ محبت کرنے والے کیلکولیٹر ہاتھ میں لیے غصے سے آپ پہ نظر نہیں رکھے ہوتے ۔ وہ آپ کو سپیس دیتے ہیں۔ آپ سے اگر کسی بات پر

ناراض ہو بھی جائیں تو اتنی جلدی آپ کو unlove نہیں کر دیتے۔ ناراضی اپنی جگہ گناہ اپنی جگہ وہ پھر بھی آپ کو ہرٹ نہیں ہونے دیتے۔ آپ کا خیال رکھتے ہیں۔

جو بہت محبت کرنے والے ہوتے ہیں نا وہ بات کرنا چھوڑ دیں تب بھی آپ کا برا نہیں چاہتے اللہ تعالی کیسے آپ کے لیے صرف جبار اور قہار ہوسکتا ہے جبکہ ابھی اس نے آپ کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

ابھیوہ آپ کی قیامت نہیں لایا۔ وہ آج بھی آپ کو سانس لینے میں دشواری نہیں دے رہا۔ آج بھی آپ کے قریب ہے۔ وہ آپ کی دعا سنتا ہے۔ جب آپ بہت روتے ہیں تو اس کے بعد آپ کے اوپر نیند وہی طاری کرتا ہے۔

🌺 آپکا رب آپ کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔

وہ دور نہیں جاتا۔۔ آپ دور جاتے ہیں۔ آپ نے اس سے بات کرنا کم کر دی ہے۔ مسئلہ آپ میں ہے۔ ورنہ وہ آج بھی آپ کو اپنی نظر میں رکھے ہوئے ہے۔

🌺 خوابوں کو وقت سے پہلے نہیں بتاتے۔

ورنہ وہ پورے نہیں ہوتے۔ان کو کسی راز کی طرح سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ آپ کی کامیابی دنیا کو ان کے پورے ہونے کی خبر دیتی ہے۔

🌺 محنت کے بغیر کامیابی نہیں ملتی۔

کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔اس کے لیے ہر روز محنت کرنا پڑتی ہے۔ خود کو اور اپنے کام کو دوسرے لوگوں کے مسائل سے اوپر رکھنا پڑتا ہے۔

خود کو دوسروں کی باتوں سے بھی اوپر رکھنا پڑتا ہے۔ کامیابی کے لیے خوابوں کو تصور کرنا ہوتا ہے۔ تب ہی آپ کو یقین ہو گا کہ وہ پورے ہو سکیں گے۔

🌺 اپنی خواہشات کو شادی سے نتھی کرنا غلط ہے۔

بات صرف اتنی ہے کہ ہر وہ انسان فارغ ہے جسکی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اس نے کوئی ہدف نہیں رکھے۔ بھلے وہ صبح شام کام کر رہا ہے، اگر اسکی زندگی کی کوئی ڈائریکشن نہیں ہے تو وہ بے کار ہے۔

جب آپ کسی کا دل خراب کرنے سے بچتے ہیں نا ، رب اللہ تعالیٰ آپ کے کام میں برکت ڈالتا ہے۔

خوشی اپنے آپ سے روز کیے وعدے پورے کرنے کا نام ہے۔ خوشی اللہ تعالیٰ سے وعدے پورے کرنے کا نام ہے

// جو ہے اس میں خوش رکھیں خود کو۔
پھر جو ابھی نہیں ملا
اس کی تمنا آپ کو بے چین نہیں کرے گی
خوش ہونے کی عادت ڈالیں۔
خوشی عادت کا نام ہے

اور زیادہ سے زیادہ مسکرایا کریں۔
دنیا کے سب سے خوبصورت چہرے
مسکرانے والے چہرے ہوتے ہیں۔

// لیکن ایسا نہیں ہے کہ مجھے تنقید نہیں چھبتی_سب كو چھبتی ہے_سب کو ہرٹ کرتی ہے _ بس میں کوشش کرتی ہوں کہ اگر کسی کی بات نے میرا دن خراب کیا ہے تو آج بھلے میں سارا دن برے موڈ میں رہوں

` اگلی صبح جب میں اُٹھوں تو اس بات کو پیچھے چھوڑ دوں _ ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے _ نئے دن کو پرانے دن کی باسی باتوں سے خراب نہیں کرنا چاہیے_ کبھی میں اس چیز میں کامیاب ہوتی ہوں کبھی نہیں _ ہم سب کمزور انسان ہیں_ کیا کریں _

// اچھا رائٹر خود کو غلطیوں سے پاک نہیں سمجھتا_ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں_ ہمارا کام کبھی پرفیکٹ نہیں ہو سکتا_ آپ نے کم ازکم ایک دفعہ اپنے کام کو ری رائٹ ضرور کرنا ہے _

// اور اس کے بعد کیا ہوا؟

جب آپ کسی پہ کسی شے کا الزام لگاتے ہیں جو اس کے اندر نہ ہو یا وہ اُسے ترک کر چکا ہو تو مرنے سے پہلے آپ اُس کام میں ضرور مبتلا ہوتے ہیں_یہ امام ابنِ قیم کہتے تھے_

//دوسروں کی نظروں میں اپنی اہمیت نہ ڈھونڈیں
دوسروں کے لیے اہم بننے کا خواب نہ رکھیں
ان کا اپنا ایک سمندر ہے

آپ کا اپنا سمندر اپنا راستہ ہے
کوئ محبت اور توجہ نہ دے تو اس کے پیچھے نہ بھاگیں
اپنے اسٹیشن پہ اپنے پلان کے مطابق اتریں

اس کو اس بات کا مارجن دیں
کہ اس کی بھی ایک کہانی ہے
جس سے آپ ناواقف ہیں
لوگوں کا پیچھا نہ کریں
کہانیوں کا تعاقب کریں
کہانیوں کو کھوجیں
اور آہستہ آہستہ آپ کو
ہر انسان کی سمجھ آنے لگتی ہے

// کتاب ارزاں نہیں ہوتی۔نہ خرید سکیں آپ تب بھی اس بات کا اشتہار نہیں لگانا چاہیے۔اپنے مالی کرائسس میں بھی میں نے کسی بک سٹور پہ جا کر یہ نہیں کہا کہ مجھے اپنی کتاب مفت میں دو۔میں کیوں کہتی؟یہ تو انتہائی شرمناک بات ہے کہ آپ کسی دکان پہ جا کہ کہیں کہ میں یہ افورڈ نہیں کر سکتا

۔عزت دار انسان ایسا نہیں کرتا۔وہ وقار سے اس چیز کے پاس سے گزر جاتا ہے جسے وہ افورڈ نہیں کر سکتا۔میری کتابوں پہ سال میں کئی دفعہ سیل لگتی ہے۔

دو تین لوگ مل کہ ایک کتاب خرید سکتے ہیں۔میں یہ سب اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ میں ان حالات سے گزر چکی ہوں جن میں انسان لگزری افورڈ نہیں کر سکتا۔اور تب بھی انسان وہ سب کچھ افورڈ کر سکتا ہے جو اس کی ترجیح ہو۔

اگر کتاب آپکی ترجیح نہیں ہے تو آپ اس کو نا لیں۔لیکن رائٹر اور پبلشرکو کتاب بیچنے پر برا بھلا نہ کہیں آپ باقی چیزیں بھی درخت کے پتوں سے نہیں خرید رہے پیسوں سے ہی خرید رہے ہیں۔

// محبت آپ کو خود ڈھونڈتی ہے۔
اور خوشی آپ تخلیق کرتے ہیں

// لوگوں سے اچھا گمان رکھیں۔سادہ گمان اچھا گمان ہوتا ہے اور اگر وہ بار بار آپ کو جواب نہ دیں یا آپ کے ساتھ برا سلوک کریں تو باؤنڈری کھینچیں اور پیچھے ہٹ جائیں ۔ نہ آپ نے کسی کے پیچھے بھاگنا ہے نہ کسی کی اپنے بارے میں راۓ کو لے کر پریشان ہونا ہے ۔

//گمان کرنے سے بچنے کو کہا گیا ہے ۔ اللہ نے بھی اور اس کے رسول نے بھی۔ کسی انسان کے بارے میں بنا کسی ٹھوس ثبوت کے گمان کرنا گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔یہ دلوں میں نفرت پالتا ہے۔

یہ شیطان کو موقع دیتا ہے کہ وہ آپ کے جذبات کے ساتھ کھیلے ۔یہ آپ سے آپ کا وقت ضائع کرواتا ہے

//اے  اللہ مجھے حق کو حق بنا کے دکھا اور مجھے اس کی پیروی کی توفیق دے۔ مجھے باطل کو باطل بنا کے دکھا اور مجھے اس سے اجتناب کی توفیق دے

// جس انسان کا ضمیر صاف ہوتا ہے نا ، وہ دوسرے کا ظرف آزماتا ہے۔خوامخواہ خود کو ایکسپلین کرتے رہنا آپکی عزت نفس کے خلاف ہوتا ہے۔ معزز لوگ یہ نہیں کرتے۔

// غم میں خاموشی سے گھلنا اس کو ٹراما بنا دیتا ہے۔

//عزت جس رشتے میں نہ ہو وہ رشتہ کبھی آپ کو سکون نہیں دے گا۔

// ساری عزت اللہ کے لیے ہے۔ عزت تب ملے گی جب اللہ کی بات کو سب سے اوپر رکھا جائے گا۔ عزت تب قائم رہے گی جب ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔

عزت تب حاصل ہو گی جب آپ ہر اس چیز سے بے نیاز ہو جائیں گے جو لوگوں کے پاس ہے۔ اللہ عزت اسی کو دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔ عزت کمائی جاتی ہے

۔ اپنے عمل سے اپنی حدود سے۔ اپنے ویلیو سسٹم سے۔
کسی کی محبت اور خوف کو آپ کی عزت سے بڑا نہیں ہونا چاہیے
اللہ تعالیٰ کی

 رضا کا سوچا کریں
کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے بڑا ہے جس سے ہم ڈرتے ہیں۔ یا جس سے ہم محبت کرتے ہیں ۔

// خود سے محبت کرو۔
سب سے پہلے خود سے محبت کرو۔
اور تم دیکھو گے کہ ہر چیز اپنی ترتیب خود بنا لے گی۔ خود کو بہت زیادہ قربان نہ کرو۔

کیونکہ بہت زیادہ قربانیاں دینے سے تمہارے پاس نہیں بچے گا مزید کچھ دینے کے لیے تمہارا اصل امتحان پرفیکٹ ہونا نہیں ہے۔
خود کو اپنی ذات سے مکمل کرنا ہے

خود سے محبت کرنا ایک آرٹ ہے۔

اور جو تنہا رہنا سیکھ سکتا ہے وہی اس کا راز جان سکتا ہے۔
کیونکہ جب ہم تنہائی کو قبول کرتے ہیں، تب ہی ہم دوسروں کے ساتھ محبت سے رہ سکتے ہیں۔ اور انکو ایک فرار کے طور پر استعمال نہیں کرتے۔ کیونکہ سب سے اہم رشتہ جو تم نے بنانا ہےوہ اپنے ساتھ بنانا ہے۔

//کسی انسان کو ماپنے کا پیمانہ اس کی شکل ، ہنر یااس کے پاس موجود نعمتیں نہیں ہوتیں۔

انسان کا پیمانہ ہے اس کا کردار
اس کی ایمانداری
اس کی دانائی
اس کی وفا
اس کی محبت
سچی دوستی
اور یہی ہے انسان کی میراث

// انمول انسان بننے کے لیے آپکا ہائی ویلیو ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ ایک لو ویلیو انسان ہیں تو آپ بے مول ہیں۔

// مولانا رومی کہتے تھے
ہم کیمیا گر ڈھونڈتے ہیں
ایسی صلاحیت
جو جل سکے اور بدل سکے
یہاں نیم گرم اور نیم دل کی کوئی جگہ نہیں

//الفاظ دنیا بناتے ہیں ۔ الفاظ دنیا بگاڑتے ہیں۔

//عزت نفس , دوستی سے زیادہ اہم ہے۔

//جب آپ اپنی عزت خود کرنا سیکھ جاتے ہیں ، صرف تتب دوسرے احتیاط کرنے لگ جاتے ہیں۔ ۔ یہ غرور نہیں ہے نہ خود پسندی ہے۔

یہ خود آگاہی ہے۔اپنی قدر کرنا اس کو ہم عزت نفس کہتے ہیں۔ غرور یا خود پسندی یہ ہے کہ میں دوسروں سے بہتر ہوں ،

دوسرےمیرے مقابلے میں کمتر ہیں۔ عزت نفس یہ ہے کہ میں ایک قابل عزت انسان ہوں جیسے سب انسان ہیں ۔ نہ میں کسی کو بے توقیر کروں گی نہ خود کو ہونے دوں گی۔

//صبر غم پہ کیا جاتا ہے ، ظلم پہ نہیں۔

//ہو سکتا ہے مجھے ساری دنیا کی اصلاح کرنا تو یاد رہے لیکن مجھے اپنا نفس بھول جائے۔ ساری دنیا کی خدمت یاد رہے ۔ مگر اپنا خیال رکھنا بھول جائے۔

اللہ ہم سے یہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنے آپ کو بھول جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ ان کے مراتب کے لحاظ سے سلوک کرو۔ ( مسند ابو داؤد)

مگر ہم ایسے نہیں کرتے۔ ہم لوگوں کو ان کے مقام پہ نہیں رکھ پاتے اور اس توازن کے بگڑنے پہ ہماری زندگیاں خراب ہونے لگتی ہیں۔

// جو دوست دوسرے کو کمفرٹ ہی نہ مہیا کر سکے ، وہ دوست نہیں ہے

// عزت کروانی پڑتی ہے یہ خیرات میں نہیں ملتی اور عزت کروائی جاتی ہے حدود متعین کرنے سے ،زبان سے نہیں ۔

جب بھی کوئی آپ کی حدود کو توڑے گا آپ ردعمل دیں گے اپنے حساب سے تب اگلی دفعہ وہ اس کو توڑنے سے ڈرے گا ۔ اگر ہر دفعہ آپ کی حدود توڑ کر کوئی آپ سے معافی مانگ لے اور ہر دفعہ آپ معاف کرتی آئیں۔

تو آپ کی حدود مذاق بن جائے گی بعض دفعہ لڑکیاں شادی کے شروع میں ہیں اپنی حدود نہیں منواتی اور بعد میں کارپٹ بن جاتی ہیں۔

// مولانا رومی کہا کرتے تھے۔ جو آپ دنیا کو نظر آ رہے ہیں
اگر وہ آپ نہیں ہیں تو آپ کون ہیں
اگر یہ ایک لبادہ ہے
جسے آپ نے اوڑھ رکھا ہے
تو وہ کون ہے جسے آپ چھپا رہے ہیں۔

// چاہے آپ جتنے برے حالات میں ہوں آپ نے اپنی

یہ بھی پڑھیں:   خامیوں پر قابو کیسے پایا جائے؟

اخلاقی حدود نہیں چھوڑنی۔
۔ ان لوگوں کی کوئی عزت نہیں کرتا جو ماڈرن قسم کے دوست بنا کے ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔
آپ کا اپنا ایک رنگ ہونا کیا ہے۔

آپکی اپنی ویلیوز اپنی آراء ہونی چاہیے۔ کیوں آپ کسی کی محبت میں اس کے رنگ میں رنگ
جائیں

اس کے لیے سب سے ضروری ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ خود کون ہیں ۔ اپنی حدود اپنی ویلیوز اپنے اصول آپ کے ذہن

میں بہت کلیئر ہونے چاہیں ۔ نئی جاب شروع کریں یو نیورسٹی جوائن کریں یا سسرال میں قدم رکھیں. آپ کے پاس پہلے دن

سے اپنے سیٹ اصول ہونے چاہیں کہ فلاں اور فلاں کام میں نہیں کروں گی۔ میں خود کو گروم ضرور کروں گی بہتر بناؤں گی

سیکھوں گی لیکن یہ اصول ہیں جو میں کسی کے کہنے پہ نہیں
توڑوں گی۔

//خواب بھی راز ہوتے ہیں ان کو دل میں رکھنا آنا چاہیے آپ کا دل ایک رنگین شیشے کی طرح ہے جب سورج چمک رہا ہوتا ہے تو دل کو بھی چمکنا ہوتا ہے لیکن جب

اندھیرا چھا جاتا ہے تب صرف وہی شیشے چمکتے ہیں جن کی روشنی ان کے اندر سے نکل رہی ہوتی ہے آپ کو اپنے دل کے اندر خود سے دیا جلانا ہے

اپنی روح کے اندر ایک باغ لگانا ہے

//دوسرے انسانوں کو خوشی دینا خوشی دیتا ہے – دوسرے انسانوں کو خوش کرتے رہنا خوشی نہیں دیتا – ان کو امید تھمانا خوشی دیتا ہے – کسی کی مدد کرنا

خوشی دیتا ہے – جب زندگی کا مقصد نہ ہو تو انسان اپنی خواہشات کو اپنا “الہ” (خدا) بنا لیتا ہے – شادی کی تمنا، اولاد کی تمنا، پیسوں کی تمنا، بڑے گھر کی تمنا،

شہرت کی تمنا…. یہ سب چیزیں زندگی کا حصہ ہیں ان کے لیے محنت کرنی چاہیے- لیکن یہ زندگی کا مقصد نہیں ہیں – ان سے خوشی کو منسلک نہیں کرنا چاہیے –

//اسٹڈیز کہتی ہے کہ عورت کو نئے گھر میں ایڈجسٹ ہونے میں کم از کم پانچ سال لگتے ہیں ۔اس لئے بہت سی طلاقیں اس وقت ہوتی ہیں جب شادی کو پانچ چھ سال گزرے ہوتے ہیں ۔ آپ بروکن فیملیز کے بچوں سے کبھی

سنیںتو وہ بتائیں گے کہ ہمارے ماں باپ کی طلاق تب ہوئی جب میری عمر چار یا پانچ سال تھی

// عادتیں انسان کو کامیاب کرتی ہیں ۔ عادتیں انسان کو ناکام بناتی ہیں۔

// انمول وہ ہوتا ہے جسکا کوئی انسان مول نہیں دے سکتا سو کسی انسان کو پانے کے لیے آپ نے خود کو خوبصورت نہیں بنانا جس واحد انسان کے لیے آپ نے خود پہ محنت کرنی ہے وہ آپ خود ہیں۔

// قرآن اور نماز آپ کی آنکھوں پی چھائی دھند دور کرتے ہیں۔ یہ آپ کو زندگی کی اور ارد گرد کے لوگوں کی حقیقت دکھاتے ہیں یہ آپکو وہ نظر دیتے ہیں

جو دھوکہ نہیں دیتی پھر آپ کی فراست خطا نہیں ہوتی
آپ بے شک بہت جلد اعتماد کرنے والے انسان ہوں بے

شک آپ کو انسانوں کی سمجھ بوجھ نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ کا باقاعدگی سے ذکر کرنا آپکی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے

کسی انسان میں سو خوبیاں ہوں لیکن انسان جب بھی کسی سے تعلق بناتا ہے اسے اس تعلق کے آداب کا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ ہر تعلق انسان کو بدلتا ہے . اس کو شیپ

کرتا ہے ۔کیا دوست کا اچھا ہونا کافی نہیں ؟دوستی ٹاکسک تب بنتی ہے جب دوستوں میں کمفرٹ نہ ہو.تم اپنے دوست کے پاس جاتی ہو تکلیف میں ،کنفیوژن میں ، خود کو ریلیکس کرنے کے لئے ۔ ایسے میں جو دوست تمہیں ہر شے کا منفی رخ دکھائے ۔وہ ٹاکسک ہوتا ہے

حساس لوگوں کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ لوگوں کے رویوں کو جلد بھانپ لیتے ہیں۔

مولانا رومی کہتے تھے
میں نے یہ سیکھا اس دنیا سے
کہ یہاں ہر کوئی چکھے گا موت کا مزہ
لیکن بہت کم ہوں گے
جو چکھ پائیں گے
زندگی کو

ہم میں سے اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں انسانوں کی پہچان نہیں ہے اور وہ دھو کے کھاتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم

انسانوں کے ساتھ روابط بنانے میں بہت جلد بازی سے کام لیتے ہیں ۔ جلدی بھروسہ کرتے ہیں ۔ آزماتے نہیں ہیں۔ پرکھتے نہیں
ہیں ۔

تعلق کو وقت نہیں دیتے اور پہلے ہی سارے راز اس کے سامنے کھول کے رکھ دیتے ہیں ۔ وہ اچھا نہ نکلے تو پھر پچھتاتےہیں ۔ یا وہی گھسا پٹا جملہ دہراتے ہیں کہ لوگ دھوکہ نہیں دیتے تو قعات دھوکہ دیتی ہیں وغیرہ

وغیرہ.. توقعات لگانا انسانوں کی:مجبوری ہے بھئی ۔ ہم توقعات لگاتے ہیں اور لگاتے رہیں گے۔ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ ہم کسی سے کچھ توقع نہ کریں توقعات لگانا غلط

نہیں ہے۔دوسرے انسانوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس کو پرکھنے میں وقت لگانا ضروری ہے۔ رشتوں کو وقت دیا کریں۔ جلدی سے فیصلے پر نہ پہنچ جایا کریں ۔ نہ کام میں ۔ نہ انسانوں کے بارے میں ۔

آپ کو کون لوگ شدید ناپسند ہوتے ہیں ؟

بہت فخر کرنے والے ، بہت اترانے والے ، بہت اکڑنے والے ، خود کو کوئی بڑی چیز سمجھنے والے ۔ ایسے مغرور لوگوں کو نرگسی لوگ کہا جاتا ہے ۔نار سیسیٹ۔ ان کی

سیلفاسٹیم اتنی ہائی ہوتی ہے کہ حد نہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذات بہت اعلی وارفع ہے ۔

سو ان کے لئے سب جائز ہے ۔وہ دوسروں کی فیلینگ ہرٹ کریں کسی کو پیروں تلے روند دیں ۔بھئی ان کے لئے سب جائز ہے ۔

یہ غرور ہے ، یہ آپ نے اپنے اندر پیدا نہیں کرنا . آپ نے صرف اپنی سیلف اسٹیم کو اونچا کرنا ہے .اونچی سیلف اسٹیم والے نرم اور عاجز لوگ ہوتے ہیں ۔ان سے محبت ہو جایا کرتی ہے

۔ان کی شخصیت سحرانگیز بن جایا کرتی ہے ان سے کسی کو کوفت نہیں ہوتی ، مغرور لوگوں سے کوفت ہوتی ہے ۔ آپ کو دو انتہاؤں کے درمیان میں اپنا توازن برقرار رکھنا ہے ۔ آپ نے اپنی سیلف اسٹیم کو مثبت مگر حقیقت پسندانہ رکھنا ہے ۔

// آپ نے دعا کرتے رہنا ہے۔ ہر روز دعا کیا کریں دوا کی طرح ۔ دوا ایک مقرر وقت پرروز کھائی جائے تو افاقہ ہوتا
ہے۔

ایک ہی دن سے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ دعا کرنا نہ چھوڑیں اور روز دعا کریں تو آپ کی ہر دعا ایک نئے عمل کوجنم دے گی کارڈز کو
ذہن میں رکھ لیں ۔

کارڈز رکاوٹیں ہیں ۔ ایک ایک کر کے رکاوٹیں گرتی جائیں گی ۔ اگر در میان میں آپ نے دعا چھوڑ دی کبھی

میری تو دعانہیں قبول ہوتی تو اگلے کارڈز کیسے گریں گے؟میری تو دعانہیں قبول ہوتی تو اگلے کارڈز کیسے گریں گے؟

دعا ایک پراسیس ہے۔ یہ سوچ کے اسے مانگنا ہے کہ کہیں دنیا میں کسی ان دیکھے طریقے سے الله کا کن‘ آپ کے راستے کی
رکاوٹوں کو گرا رہا ہے۔

ایک دن آپ کی دعا قبول ہو جائے گی۔ ایک دن سارے کارڈز گر جا ئیں گے اور آپ کو مل جائے گا جو
آپ کو چاہیے

۔ لیکن پراسیس کے ساتھ۔ پراسیس کے بغیر نہیں ۔ وقت لگائے بغیر نہیں ۔ محنت اور صبر سے انتظار کیے بغیر نہیں ۔
محبت بھی ایک پراسیس سے گزر کر ہوتی ہے


۔ پہلی نظر کی محبت وجود رکھتی ہے یا انہیں

لیکن اگر اس کے بعد اگر محبت کو پراسیس سے نہ گزارا جائے تو وہ ایک
نادانی سمجھ کے بھلا دی جاتی ہے۔

شادی کے بعد میاں بیوی کو ایک ساتھ ایڈجسٹ ہونے کے لیے بھی اپنے رشتےکو وقت
اور پراسیس کی بھٹی سے گزارنا پڑتا ہے۔

//مستقبل کی خوشی کچھ نہیں ہوتی – خوشی حال میں ہوتی ہے – جس لمحے میں آپ ہیں – زندگی کے جس دور میں آپ ہیں اگر آپ اپنی اس حالت پہ

اللـــہ کا شکر نہیں ادا کرتے اور ہر وقت ان چیزوں کے لیے کڑھتے رہتے ہیں جن سے آپ محروم ہیں تو آپ کبھی خوش نہیں ہوں گے –

خوش لوگ شکرگزار لوگ ہوتے ہیں –

جو ہے وہ اس کو دیکھتے ہیں – جو نہیں ہے، وہ اللّٰہ سے اس کی امید رکھتے ہیں اور اگر وہ ان کو نہ ملے، تب بھی وہ مایوس نہیں ہونے لگتے-
خوشی مایوسی کا الٹ ہے – خوشی امید ہے –
خوشی بڑی چیزوں میں نہیں ہوتی – خوشی چھوٹی چیزوں میں ہوتی ہے –

//دعا کے لئے وقت نکالتے نہیں ہیں؟

لیکن چاہتے ہیں کہ وہ پلک جھپکنے میں پوری ہو ۔دعا کے بارے میں بھی ہمارے غلط نظریات ہیں ۔اللہ سے مانگو تو اللہ ہر چیز دیتا ہے ۔

اللہ کی قسم ہر چیز دیتا ہے اگر آپ مانگیں لیکن جلد بازی نہ کریں ۔جلد بازی یہ ہے کہ آپ کہیں میں نے بہت دعا کی لیکن یہ چیز نہیں ملی ۔دعا بھی ایک پراسیس

سے گزر کر پوری ہوتی ہے ۔ آپ کی دعا کے بعد اللہ تعالی اس کو قبول کر کے جب کن کہتا ہے تو وہ کن چند اعمال کی سیریز کو جنم دیتا ہے ۔آپ نے وہ ویڈیوز دیکھی ہیں جس میں بہت سے کارڈز قطار میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ پہلا کارڈ گراتے ہیں تو دوسرا گرتا ہے ۔

یوں ایک قطار میں باری باری سارے کارڈز گر جاتے ہیں ۔اس کو کہتے ہیں “سیریز آف ایکشنز ” یعنی اعمال کا ایک سلسلہ ۔۔ آپ کی دعا پہ اللہ تعالی کا کہا جانے والا کن ایک عمل کو حرکت میں لاتا ہے ۔اس ایک عمل کا آپ کو علم نہیں ہوتا

//اپنی کسی دعا کسی خواہش کو انسان کو اپنا الہ (معبود) نہیں بنانا چاہئیے کہ وہ نہ ملے تو سب ویران ہے –

// ان سکیورٹی نفسیاتی بھی ہو سکتی ہے؟

۔جیسے یہ سوچنا کہ لوگ آپ کو چھوڑ کے چلے جائیں گے ۔یا یہ کہ آپ کو جب بھی کوئی اچھا انسان ملے گا ، آپ اس کو کھو دیں گے ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ خود سے محبت نہیں کرتے ۔ اپنے آپ سے شناسا نہیں ہیں ۔خود سے محبت و غرور نہیں ہوتی ۔غرور ہوتا ہے دوسروں کو کمتر سمجھنا اور خود کو برتر ۔

خود سے محبت ہوتی ہے اپنی ذات کی خوبیوں خامیوں کو جانتے ہوئے اپنی عزت کرنا ، اپنے آپ کو قابل عزت اور قابل محبت سمجھنا ۔ کیوں لوگ خود کو قابل محبت نہیں سمجھتے ۔

جو لوگ سکیور ہوتے ہیں ان کو معلوم ہوتا ہے ان کو چھوڑنا آسان نہیں اور جو چھوڑے گا خود ہی پچھتاۓ گا ۔یہ اس کا نقصان ہے میرا نہیں ۔ہاں مجھے تکلیف ہوگی لیکن میرے پاس “میں” ہوں ۔اس کے پاس “میں ” نہیں رہوں گا تو نقصان اس کا ہوا نا۔۔۔

//آپ نے اس سے نفرت نہی كرنی اپنے ماضی سے آپ نے نہ نفرت کرنی ہے نا بھاگنا ہے اس کو سا منے بٹھانا ہے سامنے بیٹھا نے کا مطلب ہے اسے یاد کریں ان تمام کاموں کو بھی یاد کریں جنہیں کرنے سے آپکا نقصان ہوا تھا اس عمل سے تکلیف ہو گی کوئی سرجری تکلیف کے بغیر نہیں ہوتی آپکو یہ تکلیف اٹھانی چاہیے

//ان سکیورٹی ایسی چیز ہے جو آپ کا اعتماد کم کرتی ہے ۔آپ کے جسم یا زندگی میں ایک ایسی چیز ہے جو اپنے بارے میں آپ کو بری لگتی ہے

۔آپ کا خیال ہے کہ یہ نہ ہوتی تو آپ بہت پرکشش ہوتے ۔کاش یہ زندگی سے چلی جائے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگ آپ کو پسند نہیں کرتے ۔یہ آپ کو احساس کمتری میں مبتلا کئے رکھتی ہے

۔آپ کبھی نہیں چاہتے کہ بھری محفل میں کوئی اس کا تذکرہ چھیڑ دے۔ کیوں کہ آپ شرمندہ اور دکھی ہو جائیں گے ۔شاید آپ کی آواز رندھ جائے ۔ آنکھوں میں آنسو آ جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے کاؤنسلنگ کیوں چھوڑی؟؟

// خوشی پیسے میں نہیں ہوتی – خوشی نعمتوں کے ملنے میں نہیں ہوتی – خوشی خریدی نہیں جاتی –

پھر کہاں ہے خوشی؟

خوشیاس نعمت کو انجوائے کرنے میں ہے – خوشی اس پیسے کو بنانے کے لیے وہ پروفیشن اختیار کرنے میں ہے جس کو کرنے میں آپ کو مزہ آتا ہے

– خوشی خریدی نہیں جاتی لیکن یہ اس پیسے کی شکرگزاری میں ہے
خوشی شکرگزاری میں ہے

– جو بندوں کا شکر گزار نہیں ہوتا، وہ اللّٰہ کا شکر گزار نہیں ہوتا –

انسانوں کا شکریہ کیا ہوتا ہے؟ ان کو تھینک کیو کہہ دینا؟ *نہیں* – انسان کا شکریہ اس کے احسان کی قدر ہوتا ہے – اس کو کریڈٹ دینا ہوتا ہے

//جب بھی آپ کی زندگی میں کوئی خوشی آنے لگتی ہے ۔ انسان اندر سے آواز لگاتا ہے کہ یہ خوشی جلد چلی جائے گی۔

جب بھی
آپ کسی نئے شخص پہ بھروسہ کرنے لگتے ہیں کہتا ہے کہ جیسے پہلے لوگوں نے آپ کو استعمال کیا یہ شخص بھی وہی کرے گا۔

یہ انسان کبھی آپ کو آگے نہیں بڑھنے دیتا
۔ یہ آپ کو اپنی منفی باتوں سے واپس اسکوائر ون پر لا کھڑا کرتا ہے۔

یہ آپ کو بتاتا
ہے کہ آپ اتنے اچھے نہیں ہیں جتنالوگ آپ کو سمجھتے ہیں کیونکہ جس دن آپ کی زندگی میں آئے نئے لوگوں کو آپ کی حقیقت معلوم

ہوگی نا وہ آپ کو چھوڑ جائیں گے۔
کبھی آپ کو اس بات سے ڈر لگا ہے کہ اگر نئے ملنے والے کچھ لوگ میرا ماضی جان لیں تو میں انہیں کھودوں گا ؟ یہ بات آپ
کے کان میں کون ڈالتا ہے۔ دل کی کال کوٹھری میں بیٹھا یہ اداس وجود

// میرے ساتھ دوبارہ وہ نہیں ہو گا جو پہلے ہوا کیونکہ اب میں وہ شخص نہیں رہی۔

//اور جو خود سے محبت نہیں کرتا۔ اس کو دنیا کے سارے لوگوں کی محبت مل جائے تب بھی وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتی

// آ پ میں اتنی سیلف ریسپیکٹ اور وقار ہونا چاہیے کہ کسی کو خود پہ ترس نہ کھانے دیں۔

// آپ کسی کو نصیحت کر سکتے ہیں راستہ دکھا سکتے ہیں لیکن آپ اس کو اس کے ٹراما سے نہیں نکال سکتے سوائے اس کے کہ آپ ایک سائیکالوجسٹ ہوں۔ آپ نے کسی کا سائیکالوجسٹ بننا بھی نہیں ہے۔ آپ نے کسی دوسرے انسان کو بدلنے کی کوشش نہیں کرنی۔

// کسی کو چپ کی مار نہیں مارنی چاہیے ہمیشہ گفتگو کر کہ تعلق ختم کرنا چاہیے۔

// اداسی ایک ایسے اسپرے کی طرح ہے جسے ایک کونے میں چھڑکا جائے تو اسکی مخصوص مہک سارے میں پھیل جاتی ہے حساس انسان اسکو فورا سونگھ لیتا ہے

//آتھینٹک یا اصل محبت سست روی سے آگے بڑھتی ہے ۔جیسے جیسے آپ انسان کو جانتے ہیں ، ویسے ویسے اس کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں ۔

جبکہ ٹراما بونڈنگ ایک جادوئی سا اثر ہوتا ہے ۔آپ کسی سے اتنے متاثر ہو جاتے ہیں ،اس کی محبت میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ آپ کو ان کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔بس آپ دونوں ہر وقت رابطے میں رہیں ۔ہر وقت بات کرتے رہیں۔

وہشخص گلوکوز کی ایک بوتل بن جاتا ہے جس سے قطرہ قطرہ رس کے آپ کے اندر ٹپکایا جارہا ہوتا ہے ۔یہاں خوراک روکی یہاں آپ جلے پیر کی بجلی کی طرح ادھر ادھر اضطراب میں چکر کاٹنے لگے ۔

ٹراما بونڈنگ میں جدائی بے قرار کر دیتی ہے ۔محبوب کا دور جانا بے چین کر دیتا ہے ۔یہ نارمل نہیں ہے ۔
اصل محبت آپ کو آزاد کر دیتی ہے

۔آپ کو دوست یا محبوب کی کمپنی خوش کرتی ہے اور اس کے دور جانے پہ بھلے آپ اس کو مس کریں لیکن آپ کی اپنی بھی کوئی زندگی ہوتی ہے

۔اصل محبت توازن کے ساتھ ہوتی ہے ۔وہ میسج کا جواب نہ دے تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ مصروف ہے اس کی بھی کوئی زندگی ہے جیسے آپ کی ہے

۔
ٹراما بونڈنگ میں آپ محبوب کے ساتھ خود کو خوش محسوس کرتے ہیں ۔
اصل محبت محبوب کے ساتھ خود کو سیکیور محسوس کرتے ہیں

۔
لوگوں سے آتھنٹک طریقہ سے بونڈ ہونے کا طریقہ وہی پرانا ہے جس کے ذریعے ہر عظیم محبت جنم لیتی ہے اور پروان چڑھتی ہے ۔ اور وہ ہے ۔۔۔۔اپنے محبوب کو اپنے اندر اپنے اصل انسان سے ملوانا

۔
کسی کو آپ سے محبت تب ہوگی جب وہ آپ کے اندر کے اصل انسان کو جاننے لگے گا ۔یعنی آپ کو کیا پسند ہے ۔۔کیا ناپسند۔۔۔

۔آپ کے شوق کیا ہیں ؟ ویلیوز کیا ہیں ؟

کیا آپ لوگوں سے مہربانی کا رویہ رکھتے ہیں ؟

دوسروں کی مدد کرتے ہیں ؟

کیا آپ کی حس مزاح اچھی ہے ؟

کیا آپ ایک فن پرسن ہے یا بورنگ ؟

آپ لوگوں کو اپنے رویے باتوں اور اخلاق سے کمفرٹیبل محسوس کرواتے ہیں یا نہیں ؟

کیا آپ لوگوں کو کچھ نیا سکھاتے ہیں ؟

کیا لوگ آپ کےپاس سے خوشی سے آتے ہیں یا بھاری دل کے ساتھ ؟

آپ کے بارے میں یہ باتیں جان لینے کے بعد کوئی شخص یا آپ سے دور چلا جاتا ہے یا آپ کے قریب آ جاتا ہے ۔یہ اس شخص پہ ہی منحصر ہے کہ وہ خود کس چیز کی قدر کرتا ہے ۔

اگرآپ ایک مہربان انسان ہیں اور وہ خود غرض اور مفاد پرست تو وہ آپ کو بیوقوف گردان کے دور ہو جائے گا ۔وہ آپ کے قابل ہی نہیں تھا ۔

یاد رکھیں ۔۔۔۔آپ اپنے جیسے لوگوں کو اٹریکٹ کرتے ہیں ۔اسی لئے جب آپ خود کو مثبت بناتے ہیں تو آپ مثبت لوگوں کو اٹریکٹ کرنے لگ جاتے ہیں ۔اور منفی لوگوں کو جلد پہچان کے ان سے دور ہٹ جاتے ہیں ۔

// وہ سارے غلط فیصلے ،وہ سارے گناہ ، وہ ساری نادانیاں آپ نے خود کی تھیں۔ آپ کو کسی نے وہ ثابت کرنے پہ نہیں ورغلایا تھا

.پچھتاؤں میں دوسروں کا حصہ نکالنا چھوڑ دیں ۔وہ سب آپ نے خود کیا تھا کیونکہ اس وقت آپ کی عقل سمجھ اتنی ہی تھی ۔آپ کو اپنے پچھتاؤں کو اپنانا ہوگا ۔وہ زندگی کا سیاہ دور نہیں تھا ۔وہ ایک تجربہ تھا

//اور خوشی دل کی بات سننے کا نام ہے۔جو دل چاہتا ہے اس کو کر دینے کا نام ہے۔خوشی اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا نہیں بلکہ ان کے لیے امید کے ساتھ محنت کرنے کا نام ہے۔

خوش رہنا ایک عادت ہے۔
خوشی صبح کا سورج خاموشی سے دیکھنے کا نام ہے۔خوشی رات میں آسمان پے تارے دیکھنے کا نام ہے۔خوشی ہر روز بارش میں بھیگنے کا نام ہے۔خوشی ہر روز آپ کے پاس آتی ہے۔ہر روز۔ واللہ ہر روز! آپ اس کو تھامتے نہیں ہیں تو وہ چلی جاتی ہے۔

جن بڑے بڑے واقعات کے آپ منتظر ہیں وہ آپ کو خوش نہیں کر سکتے اگر آپ ابھی خوش نہیں ہیں،اگر آپ ابھی خوش ہونا سیکھ لیں تو پھر آپ کو بڑا واقعہ بھی خوش کرے گا اور چھوٹا واقعہ بھی۔ورنہ کوئی چیز آپ کا من نہیں بھر سکے گی۔

//بہت سے بچے اس لیے بڑے ہونا چاہتے ہیں ۔کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ بڑے ہو کر انکو اپنے ٹراما سے نجات مل جائے گی ۔وہ آزاد ہو جائیں گے ۔

لیکن جب تک وہ اس ٹراما کا سامنا نہیں کرتے
وہ اسکے قیدی رہتے ہیں
قصور انکا نہیں تھا
قصور انکے بڑوں کا بھی نہیں تھا

بس ان کے بڑے یہ نہیں سمجھ سکے
کہ بچے اپنے بڑوں کو فائدہ دینے کے لئے پیدا نہیں ہوتے
بچے اپنے خاندان والوں کی ملکیت بھی نہیں ہوتے
بچے مستقبل ہوتے ہیں

جس دنیا کے لئے بڑے انکو تیار کرتے ہیں
انکے بڑے ہونے تک
دنیا وہ نہیں رہتی
یہ ہماری پوری نسل کا ٹراما یے
اور ہمیں اس سے جاگنا ہے

//جب آپ میچور ہوتے ہیں اور اپنے ٹراما سے خود کو نکالتے ہیں تو آپ ایک راز پا لیتے ہیں۔
کہ ہمیں وقت اور عمر کے ساتھ رشتوں کو آؤٹ گرو outgrow کرنا پڑتا ہے۔

جیسے قد بڑھنے سے کپڑے چھوٹے اور تنگ پڑ جاتے ہیں
ایسے ہی انسان جب اپنی روح کا خیال رکھنا شروع کرتا ہے

تو کچھ لوگ اسکے دل کو تنگ اور چھوٹے پڑ جاتے ہیں
وہ ان کے ساتھ رہے تو اسے گھٹن ہوتی ہے
رشتے ہمارا آئینہ ہوتے ہیں

وہ ہمیں ہمارے ان حصوں کا عکس دکھاتے ہیں جن کو تندرست ہونے کی ضرورت ہوتی ہے
جیسے جیسے آپ زندگی میں آگے بڑھیں گے

کچھ رشتے مزید گہرے اور مضبوط ہوتے جائیں گے
اور کچھ رشتے دھندلے ہو کر پس منظر میں چلے جائیں گے
رشتے کا ختم ہونا ناکامی نہیں ہے

یہ میچورٹی ہے
یہ ذہنی تندرستی کی طرف ایک اہم قدم ہے

//اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر بندے کو ہر وہ چیز مل جائے جو وہ چاہتا ہے تو وہ اپنی حدود توڑ کے باہر نکل جائے۔۔اس آیت میں سرکشی کے لیے طغی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔

طغیکا مطلب ہوتا ہے حدود توڑ کے بے قابو ہو کے باہر نکل جانا ۔

انسان حدود کب توڑتا ہے ؟

جب اسے ہر چیز عطا کر دی جائے ۔جب اسے کچھ کھونے کا خوف نہ رہے ۔کچھ مزید پانے کی تمنا نہ رہے ۔سو جب آپ اپنا آپ پلیٹ میں رکھ کر کسی انسان کو پیش کرتے ہیں تب اس کو آپ کو ہرٹ کرنے کی چھوٹ ہوتی ہے

۔ آپ کو کھونے کا خوف نہیں ہوتا کہ وہ جو کر لے آپ نے اس کو نہیں چھوڑنا اور چونکہ آپ نے اپنا آپ کھول کے بیان کر دیا ہے سو اسے مزید آپ کے بارے میں جاننے میں دلچسپی نہیں ہوتی ۔یوں وہ آپ کی حدود توڑنے لگتا ہے ۔

دوسرے الفاظ میں اگر آپ کو حدود قائم کرنی ہیں تو آپ نے قرآن کی یہ آیت یاد رکھنی ہے.لوگ حدود تب توڑتے ہیں جب انہیں ہر شے مل جائے ۔

سو آپ نے اپنی زندگی میں آنے والے ہر شخص کو ہر چیز نہیں دینی ۔سمپل ۔سب کو اپنی ذات تک تھوڑی تھوڑی رسائی دینی ہے ۔

// ۔کمیونیکیشن ۔آپ نے بہت کلیئرلی آپ نے کلولیگز کو بتانا ہے کے کام کے بعد دوسرے اوقات میں وہ آپ کو کال نہیں کر سکتے یا کس

اور کس وقت وہ آپ کو کال کر سکتے ہیں ۔یورپ میں اس سے رائٹ ٹو ۔ ڈسکنیکٹ ( منقطع ہونے کا حق ) کہا جاتا ہے ۔آپ کو چھ بجے کے بعد کام سے منقطع کر کے خود کو ان چیزوں یا لوگوں کے ساتھ جوڑنا ہے جو آپ کے لئے اہم ہے

۔اس لیے آپ کو اپنے کولیگز کو پہلے دن سے بتانا ہے کے صرف فلاں چیز ایمرجنسی میں شمار ہوتی ہے اس کے لئے آپ مجھے کال کر سکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ کسی کام کے لئے نہیں

۔پھر آپ اپنے عمل سے اس باؤنڈری کا اطلاق کریں گے ۔کیسے ؟ آپ کولیگ کی کال نان ورکنگ أورز میں نہیں اٹھائیں گے ۔ آپ صبح واپس کام پہ جائیں گے اور اسے کہیں گے میں گھر میں کام نہیں کرتا سو اب آپ مجھے بتائیں کہ کیا مسئلہ ہے ۔

جب بھی باؤنڈری کی خلاف ورزی ہو اس کو فورا نوٹس میں لایا جائے ۔۔فورا آواز اٹھائی جاتی ہے یہ ” می ٹو موومنٹ ”

کیوں شروع ہوئی ؟ کیونکہ بہت عرصے تک عورتیں خاموش رہیں اور ورک پلیس میں ہراسمنٹ کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکیں۔کیونکہ ہمیں سکھایا ہی نہیں جاتا کہ فورا آواز اٹھانی ہے

۔ اس لئے جب بھی کوئی آپ کی باونڈری توڑے آپ نے فورا اجتجاج کرنا ہے ۔

۔اگر حالات خراب ہو ماحول خراب ہو یا لوگ آپ کو تنگ کرنے لگیں تو پہلے کسی بڑے کو شکایت لگائیں اور اگر معاملہ نہ سدھرے تو ورک پلیس چھوڑ دیں ۔۔اس جاب سے نکل آئیں

۔ کوئی بھی نوکری دنیا کی آخری نوکری نہیں ہوتی ۔آپ کی ذہنی صحت زیادہ اہم ہوتی ہے ۔اپنے آپ کو خواہ مخواہ کی چخ چخ سے نکالیں۔

یہ بھی پڑھیں:   Islamic quotes

//توبہ یہ نہیں ہے کہ اپنے گناہوں پہ اتنی شرمندگی ہو کہ اس سے منہ چھپا کے بھاگ جائیں ۔توبہ اس گناہ کی

معافی مانگنے اور دوبارہ نہ کرنے کا عہد کرنے کا نام ہے ۔۔ انسان دوبارہ وہی کام کرنے سے خود کو بچاتا ہے جس کو پہلی دفعہ کرنے سے نقصان اٹھانے

کیوجہ اس کو یاد ہو ۔ اگر آپ اپنے ماضی کو بھلانے کی کوشش کریں گے تو آپ کو کیسے یاد رہیں گی وہ غلطیاں جو آپ نے کی تھیں ۔

توبہ اور اصلاح اپنے گناہ کی وجہ ڈھونڈنے کا نام ہے ۔

میں نے وہ کیا تو کیوں کیا ؟

میں نے دھوکہ کھایا تو کیوں کھایا ؟

غلط شخص کی محبت میں پڑا تو اس کی کون سی ایسی بات ہے جو مجھے اس کے پھندے میں پھانستی گئی تھی ؟

یہ باتیں بھلا دینے کی نہیں یاد رکھنے کی ہوتی ہیں ۔۔کیوں ؟

کیوں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے ۔ جو غلط کام آپ سے پہلے ہوئے ہیں ، ان کے موقع دوبارہ آئیں گے ۔ شاید ابھی آپ کو اس بات پر یقین نہ آئے لیکن اپنی جس پرانی غلطی پہ آپ کو شرمندگی تھی ۔

وہ زندگی کے کسی موڑ پر آپ کو کسی دوسری شکل میں ترغیب دلائے گی .یہ شخص نے آپ کو دھوکہ دیا تھا ۔۔ ویسا ہی ایک شخص بعد میں بھی آپ کو ملے گا ۔ کئی ماہ ، سال کئی دہائیوں بعد سہی لیکن ملے گا ۔ اگر یہ یاد نہ رہے کہ

 کیا بات آپ کو اس کے جال میں پھنسا دیتی تھی تو نئے وار سے کیسے بچ پائیں گے ؟

ماضی کو بھلا دینا غلط ہے ۔ماضی سیکھنا اصل آرٹ ہے ۔اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے پہلے ان غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنی پڑتی ہے

//ماضی میرے حال میں عمل دخل نہیں دے گا۔ یہ سب سے ضروری مرحلہ ہے ۔
آپ نے خود سے باآواز کہنا ہے کہ اب تم مجھے نہیں بتاؤ گے میرے ساتھ ہمیشہ غلط ہوگا ۔

جس پہ بھی میں اعتبار کرنے لگوں ، وہ غلط ہی نکلے گا ۔مجھے اپنے عمل پہ شرمندگی ہے لیکن مجھے اپنے آپ پہ کوئی شرمندگی نہیں ہے ۔ کیونکہ آپ کا ماضی جب کہتا ہے کہ آپ کے ساتھ ایک دفعہ پھر برا ہوگا تو وہ غلط کہتا ہے

//ہم پروکیسٹی نیشن کو اپنی زندگی سے نکال نہیں سکتے ۔ ہمارے کچھ دن کار آمد اور کچھ دن بے کار ہی رہیں گے

۔کار آمد یعنی productive دنوں میں ہم اپنا کام یا پڑھائی دنوں میں ہم اپنا کام یا پڑھائی بہت اچھے سے کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور non.productive دنوں میں ہم مجنوں بنے پھرتے ہیں ۔اس حقیقت کے ساتھ ہمیں رہنا ہے کہ سال کے تین سو پینسٹھ دن کار آمد نہیں ہو سکتے

۔ہاں روز آپ کا دماغسگریٹ نوشی بہت سی ذہنی بیماریوں کی وجہ ہے،ماہرین ایک جیسا زرخیز نہیں ہو سکتا ۔دماغ کو بھی کچھ دن کا ریسٹ چاہیے ہوتا ہے
اللہ تعالی نے ہمیں ایک آزاد انسان بنایا ہے ۔

اللہ کی کتاب نے ہمیں ماضی کے غم اور مستقبل کے خوف سے نکالنا سکھایا ہے ۔اللہ تعالی نے ہمیں بہت پہلے بتا دیا تھا کہ ہمارے گناہ ہمارے دل کو داغدار کرتے جائیں گے ۔ہر روز ہم اپنے گناہوں کی گٹھڑی کے ساتھ نماز کے لئے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور اللہ کے آگے جھکنے سے وہ گٹھڑی گر جائے گی

۔
آپ کہیں گے کہ وہ گٹھڑی تو گناہوں کی گٹھڑی ہوتی ہے ۔اور یہاں بات ہورہی ہے ذہنی دباؤ کی ۔ ۔ ذہنی دباؤ ایک بالکل مختلف چیز ہے ۔آپ کی بات درست ہے ۔اسٹریس ٹینشن یا ڈپریشن کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم برے ہیں یا ہم گناہگار ہیں یا اگر ہم دین پر چلنے لگیں تو ہم بالکل ٹھیک ہوجائیں گے ۔

ایسانہیں ہو سکتا ۔یہ ہمارے دل کے روگ ہیں ۔۔ وہ علماء جو کہتے ہیں کہ ڈپریشن یا ٹینشن کچھ نہیں ہوتا سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔وہ غلط کہتے ہیں ایسا نہیں ہوتا ۔یہ ایسے ہی ہیں جیسے بخار ۔بخار نہ کافر کو دیکھتا ہے نہ مسلمان کو بس ہو جاتا ہے ۔

//آپ کی شخصیت کیسی ہے ۔

یہہے وہ چیز جسے جان کے لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں ۔آپ نے اپنے غموں کی داستان سے ان کو اپنے قریب نہیں کرنا ۔کھلی کتاب بن کے لوگوں کے سامنے نہیں گھومنا ۔

آپ نے لوگوں کو اپنی ذات خود دریافت کرنے دینا ہے ۔ آپ نے لوگوں کو اپنا تعاقب کرنے دینا ہے ۔ دوسروں کو اتنا موقع اور وقت تو دیں کہ وہ آپ کی جستجو کے سفر پہ نکلیں ۔۔وہ آپ کو تلاش کرسکیں ۔ اور پرت در پرت آپ کے اندر کے انسان کو کھوجیں

۔ اور اگر وہ انسان مثبت اور اچھا ہے اپنے آپ سے محبت کرنے والا ہے ، تو لوگ خود بخود آپ سے محبت کرنے لگیں گے ۔ کہنے کو یہ کتابی باتیں ہوتی ہیں لیکن جب تک آپ خود سے تعلق قائم نہیں کرتے دوسروں سے خود کو جوڑنا نری بے وقوفی ہے

//شاید آپ کہیں کہ بانٹنے سے غم ہلکا ہوتا ہے ۔ہاں اس وقت آپ غم سے “گزر” رہے ہوں۔

آپ صرف ایک دو لوگوں کے پاس جائیں اس سے مسئلے کا حال دریافت کریں اور جب آپ اس سے نکل آئیں تو اس بات کو بار بار نہ دہرائیں ۔غم صرف تب بتائیں جب وہ تکلیف دیتا ہو ۔

وہ ایسا ٹراما بن جائے گا جو کئی برس بعد بھی تندرست نہ ہو تو آپ دوستوں سے بات کریں ۔
لیکن ماضی کے گزرے غم ہر ایک کو سنانے کے لئے نہیں ہوتے ۔ محبوب کو سنانے کے لئے تو بالکل نہیں ہوتے ۔

اس غم میں اللہ تعالی نے آپ کو ڈالا تھا ۔اس غم سے اللہ تعالی نے آپ کو نکال دیا ہے ۔یہ شکر کا وقت ہے نہ کہ سر پیٹنے کا

۔اگر آپ بار بار ہر آئے گئے کہ سامنے اپنے رونے روتے رہیں گے تو آپ کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے ۔غم آپ نے صرف اس شخص کو سنانا ہے جو آپ کو کوئی ایسی بات بتا سکے جو آپ کو معلوم نہ ہوں

//ہم ڈائجسٹ کی کہانیوں یا فلموں ڈراموں میں اکثر لائن پڑھتے ہیں ۔

کہتم میرے غم کو سمیٹ لو ۔لیکن کوئی انسان کسی دوسرے کے غم کو نہیں سمجھ سکتا نہ کسی انسان سے دوستی یا تعلق خوشی حاصل کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے ۔یہ بات ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے

//اگر آپ اس لئے شادی کرنا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کو وہ خوشیاں دے گی جو آپ کی زندگی میں نہیں ہیں توکیا آپ صحیح ہیں؟

آپ غلط ہے ۔ریلیشن شپ اس لئے نہیں بنائے جاتے کہ شریک حیات ایک دوسرے کو خوشی دیں۔ شادی اس لیے نہیں کی جاتی کہ آپ کو اسے خوشی ملے ۔اس لیے کریں گے تو کبھی خوش نہیں رہیں گے ۔شادی یا ریلیشن شپ تب کامیاب ہوتا ہے جب وہ لوگ اپنے اپنے اندر کے

خوشیایک تعلق میں انڈیلیں۔ پھر دونوں کو سکون ملتا ہے ۔دوسری صورت میں تعلق ٹاکسک بن جاتا ہے

//ہمارا مسئلہ یہ ہے کے ہمیں اپنے حالات بدلنے ہیں ۔ لیکن ہم بدلے ہوئے حالات کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ نہ ذہنی طور پہ ۔ نہ جسمانی طور پہ یا تو ہم کوشش نہیں کر رہے اور اگر کر رہے ہیں تو صرف حالات کو بدلنے کی ۔
حالات اللہ تعالی نے بدلنے ہیں

۔ہم نے دراصل “خود ” کو بدلنا ہے ۔جس دن آپ خود کو بدل لیں گے اس دن حالات بھی بدلنے لگیں گے۔ یہ بات آپ لکھ کے رکھ لیں۔

گھول کے پی لیں ۔جب تک آپ اپنی کمزوریوں کو نہیں جانے دیں گے ، ان کو دور نہیں کریں گے ، کچھ نہیں بدلے گا ۔

اورکمزوریوں کو جاننے کے لیے خود سے ملنا پڑتا ہے ۔ انہیں دور کرنے کے لئے خود سے محبت کرنی پڑتی ہے ۔جب تک آپ کو اپنے اندر کے انسان سے محبت نہیں ہوگی اللہ کی مخلوق سے محبت نہیں ہوگی

۔مخلوق سے محبت نہیں ہوگی تو اللہ سے نہیں ہوگی

//کیا جو لوگ کسی کے جواب نہ دینے کے باوجود بھی اس کو میسج کرتے رہتے ہیں ۔ ان میں عزت نفس کی شدید کمی ہوتی ہے ؟

۔ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں ۔ عزت نفس سے اوپر کوئی شے نہیں ہوتی ۔اللہ تعالی نے ہمیں باعزت پیدا کیا ہے ۔ کیا اللہ کو یہ بات پسند آئے گی کہ ہم دوسروں کے پیچھے اتنا بھاگیں کے اس عزت کی پرواہ نہ رہے جو اللہ نے ہمیں عطا کی تھی ۔

کیا اللہ تعالی کو ایسا انسان پسند ہوگا جو دوسروں کی توجہ پانے کے بہانے ڈھونڈتا ہوگا؟ ۔

نہیں ۔ اللہ تعالی کو غنی انسان پسند ہے ۔جو ہر اس چیز سے بے نیاز ہوں جو لوگ اسے دے سکتے ہوں۔
اور ایک حساس دل والا انسان

دوسرے لوگوں سے کیا چاہتا ہے ؟محبت اور توجہ ۔اور یہی چاہت اسے دوسروں کے پیچھے بھگا بھگا کے تھکا دیتی ہے ۔

اس سے بچنے کا طریقہ وہی ہے جو ہمارے دین نے بتایا ہے کہ جو لوگوں کے پاس ہے اس سے بے پرواہ ہو جاؤ

۔یعنی اس کی تمنا نہ رکھو ۔یہ ایک آرٹ ہے جو انسان کو اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے اور اس أرٹ کو سیکھنے کے لئے خود سے محبت کرنا سیکھیں

//خود سے محبت کو کچھ لوگ خود پسندی اور غرور قرار دیتے ہیں کیا یہ سہی ہے؟

۔یہ رویہ غلط ہے ۔
خود پسندی اور غرور بالکل الگ چیزیں ہیں اور وہ کہتی ہیں ۔میں دوسروں سے بہتر ہوں کیونکہ دوسرے مجھ سےکم تر ہے ۔

مگر خود سے محبت کرتی ہے کہ

“میں خود سے واقف ہوں میں خود کو اپنی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرتی ہو ۔میں محبت اور توجہ کے قابل ہو کیونکہ میں خود کو محبت اور توجہ دیتی ہوں اور میں ہر وقت اپنی ذات کو بہتر بنانے پہ کام کر رہی ہوں”

خود سے محبت کرنا ایک رویہ ہے ۔

یہ ایک آرٹ ہے ۔ایک عادت ہے ۔جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے تو وہ بدل جاتا ہے ۔اور جب انسان خود بدلتا ہے تو اس کے ارد گرد کی دنیا بدلنے لگتی ہے اور جب انسان خود بدلتا ہے تو اس کے ارد گرد کی دنیا بدلنے لگتی ہے

۔وہ پہلے خود کو پہچانتا ہے پھر وہ اپنے بنانے والے سے محبت کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔پھر لوگوں کی محبت اس کے دل کو پریشان نہیں کرتے ۔کا دل سیر ہو جاتا ہے ۔

اور دل اللہ تعالی کی محبت کے بغیر کبھی سیر نہیں ہوتا ۔آپ کے دل میں جس چیز کی محبت اللہ کی جگہ لئے ہوئے ہیں اس کو وہاں سے نکالے بغیر دل سیر نہیں ہوگا

//کیا اسپیس رشتوں میں جادو کا کام دیتی ہے ؟

۔ہاں رشتے کو اسپیس چاہیے ہوتی ہے تاکہ وہ grow کر سکے۔ جڑ کو تنا بن کے اپنی شاخیں پھیلائے آنے کے لئے بھی اسپیس ( جگہ ) درکار ہوتی ہے ۔ورنہ تنگ سی جگہ پہ گھٹن کا احساس ہوتا ہے ۔

ایسے انسان یا جانور کی کوئی عزت نہیں کرتا جو خود کو اپنے محبوب کے پیروں میں رول دے اور جو ہر وقت اس کی محبت اور توجہ مانگے۔

انتخاب و ٹائپنگ / عکس: مقدس نعیم

اپنا تبصرہ بھیجیں